غزہ میں طوفانی بارشیں: عارضی خیموں میں لوگ سیلاب، گندے پانی اور ذہنی اذیت سے دوچار
مزید سامان کی فوری اجازت دی جائے: امدادی اداروں کا اسرائیل سے مطالبہ
ساحلی انکلیو کے تنگ خیموں میں ٹھنسے ہوئے فلسطینیوں کو حالیہ دنوں میں شدید بارشوں اور بڑھتے ہوئے طوفان کا سامنا ہے جس سے بعض پناہ گاہیں تباہ ہو گئیں، گدے اور کمبل بھیگ گئے اور وہ جنگ بندی کے بعد بھی ایک نئی اذیت سے دوچار ہو گئے۔
حماس کے زیرِ انتظام غزہ حکومت نے طوفانی موسم سے تقریباً 4.5 ملین ڈالر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا ہے جس میں 22،000 خیمے، خراب شدہ خوراک اور ادویات اور انفراسٹرکچر کی خرابی شامل ہیں جبکہ مقامی امدادی گروپوں نے کہا ہے کہ 300،000 نئے خیموں کی فوری ضرورت ہے۔
دو سالہ جنگ کے بعد غزہ کی تقریباً 80 فیصد آبادی اس وقت خیموں میں رہنے پر مجبور ہے۔
سامان کو پانی سے بچانا
ابو محمد القرّا کے لئے بارش اور سردی تباہ کن رہی ہے اور ساحل پر لہروں سے صرف 20 میٹر (گز) دور ان کے کنبے کے خیمے میں پانی داخل ہو گیا جس سے سامان بھیگ گیا اور اپنی اشیاء دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے وہ ایک رات دیوانوں کی طرح گذارنے پر مجبور ہو گئے۔
انہوں نے کہا ، "یہاں کوئی گرمائش یا کچھ اور نہیں ہے۔ میں صبح پانچ بجے کے بعد سے جاگ رہا ہوں اور (اب) میں اپنے ہمسایوں کے ہاں ہوں کیونکہ میں (آرام) کرنا اور سردی اور ان چیزوں کو بھول جانا چاہتا ہوں جن میں ہم مبتلا ہیں۔"
جب سابقہ جنگ بندی ختم ہو گئی اور اسرائیلی فوج کی طرف سے شہریوں کو علاقہ چھوڑ دینے کا حکم جاری ہوا تو القرّا کا خاندان موسم بہار میں مجبوراً جنوبی غزہ میں المواصی کی خیمہ بستی میں آن پڑا لیکن انہیں اپنا خیمہ لگانے کے لئے کوئی خالی جگہ تلاش کرنے کی جدوجہد کا سامنا تھا۔
آخر کار وہ سمندر کی قریبی جگہ پر بس گئے جہاں سمندری لہروں سے محفوظ رہنے کے لیے علاقے میں رہائش پذیر خاندانوں نے صرف ایک چھوٹی سی ریت کی دیوار بنا رکھی ہے۔
انہوں نے کہا، "ہم عین نصف شب کو وہاں موجود تھے، اپنے کپڑے ہٹا کر منتقل کر رہے تھے۔ کپڑے اور ہمارے گدے تکیے سب کچھ بھیگ گیا۔"
غزہ کے حکومتی میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ نے کہا کہ سیلاب نے 22،000 سے زیادہ خیمے تباہ کر دیئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ترپالوں، گدوں اور کھانا پکانے کے سامان کو دو ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقوں کی ہنگامی پناہ گاہیں بھی منہدم ہو گئیں اور خیمے پانی اور کیچڑ کے تالاب میں بدل گئے۔
مزید نقصان سے پانی اور صفائی ستھرائی کا نظام بھی متأثر ہوا ہے جس میں پانی کی عارضی لائنیں اور سیوریج کے گڑھے نیز چھوٹی شمسی تنصیبات شامل ہیں جو غزہ کے باشندوں کے لیے تقریبا تمام بجلی فراہم کرتی ہیں۔
یونیسف کے ترجمان ٹیس انگرام نے کہا کہ ایجنسی کے پاس موجود خاندانوں کے لئے پناہ کے سامان کا ذخیرہ کچھ ہی دنوں میں ہی ختم ہو جائے گا اور اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ جلد سے جلد مزید فراہمی کی اجازت دیں۔
غزہ کے حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل اتنی مدد فراہم نہیں کر رہا جتنا جنگ بندی معاہدے کے تحت وعدہ کیا گیا تھا۔ امدادی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کئی مطلوبہ اشیاء یہاں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔
اسرائیل کہتا ہے کہ وہ جنگ بندی کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کر رہا ہے اور یہ غزہ میں داخل ہونے والی کسی بھی امداد کو نہیں روکتا۔
ہسپتالوں میں امراضِ معدہ میں اضافے کی اطلاعات
انگرام نے کہا، "اس سامان کے بغیر سرد اور برساتی موسم اور ناقص صفائی کے مہلک امتزاج سے اور یقیناً غذائیت کی مستقل قلت سے بچوں کے مزید تکلیف میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جن کے نتیجے میں بیماریاں پھیلتی ہیں۔"
غزہ میں مزید اندرونی علاقوں میں بارش نے بڑے مسائل پیدا کر دیئے ہیں۔ خیموں میں پناہ گزین زیادہ تر لوگوں کے پاس بیت الخلاء یا سیوریج کی مناسب سہولیات نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے خیموں کے قریب کھودے گئے چھوٹے گڑھوں پر انحصار کرتے ہیں جو تیز بارش میں لبریز ہو جاتے ہیں۔
زیادہ تر لوگ کچرے کے غیر منظم ڈھیروں کے قریب بھی رہتے ہیں کیونکہ کچرا دان اور دیگر سہولیات ناقابلِ رسائی یا تباہ شدہ ہیں۔
پہلے سے ہی گنجائش سے زیادہ دباؤ برداشت کرتے ہسپتالوں نے بار بار خبردار کیا ہے کہ وہ معدے اور جلد کے امراض کی بڑھتی ہوئی شرح کا مقابلہ کر رہے ہیں جن کی وجہ لوگوں کا پُرہجوم اور ناصاف مقامات پر رہنا ہے۔ اس پر مستزاد وسیع پیمانے پر غذائیت کی قلت ہے جس نے ان کے مدافعتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔
جنگ سے پہلے برساتی پانی ذخیرہ کرنے والے بڑے تالابوں میں سیوریج کا پانی بھر گیا ہے اور پائپوں اور پمپنگ سسٹم کی خرابی یا تباہی سے اردگرد کی پُرہجوم خیمہ بستیوں میں یہ پانی داخل ہو جانے کا خدشہ ہے۔
-
یمنی حکومت کو غزہ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل کرنے کی امریکی کوشش شروع
امریکہ نے یمنی حکام سے رابطہ کر کے انہیں غزہ کے لیے مجوزہ بین الاقوامی استحکام ...
مشرق وسطی -
حماس کی غزہ پر اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت، ثالث ممالک سے فوری مداخلت کا مطالبہ
حماس نے بدھ کے روز غزہ کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت کی ہے جس ...
بين الاقوامى -
غزہ کی پٹی میں 40,000 بچوں کو حفاظتی قطرے پلانا ڈبلیو ایچ او کا مقصد ہے
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بدھ کے روز کہا کہ اس کا مقصد غزہ میں ...
مشرق وسطی