یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا ایک اجلاس آج جمعرات کو برسلز میں ہو رہا ہے جس میں یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورت حال پر غور کیا جائے گا۔
اس نشست سے قبل یورپی یونین کی خارجہ و سلامتی امور کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس نے انکشاف کیا کہ یونین غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں اپنے دو سیکیورٹی مشنوں کے دائرہ کار میں توسیع پر غور کر رہی ہے۔
کالاس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک غزہ میں پائے دار اور مستقل امن کے قیام کی کوششیں کر رہے ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی وزیرِ خارجہ ژان نوئل بارو نے اعلان کیا کہ فرانس فلسطینی سرزمین پر اپنے 100 سیکیورٹی اہل کار تعینات کرے گا۔ یہ اس سلسلے میں پہلا با ضابطہ فرانسیسی اعلان ہے۔
العربیہ اور الحدث کے نمائندے کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ پیرس نے حماس تنظیم کو غیر مسلح کرنے اور اسے غزہ کی حکمرانی سے الگ رکھنے کا ایک تصور تیار کیا ہے۔
یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کے روز اس امریکی مسودہ قرار داد کی منظوری دی تھی جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کے لیے تیار کردہ امن منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔ اس منصوبے میں تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں ایک بین الاقوامی فورس کی تعیناتی شامل ہے۔
اس مسودے کے مطابق ایک بین الاقوامی استحکام فورس قائم کی جائے گی جو اسرائیل، مصر اور نئی تربیت یافتہ فلسطینی پولیس کے ساتھ مل کر غزہ کی سرحدی پٹی کو محفوظ بنانے میں مدد کرے گی۔
یہ فورس غیر ریاستی مسلح گروہوں کے مستقل غیر مسلح کرنے، شہریوں کے تحفظ اور امدادی راہ داریوں کے قیام پر بھی کام کرے گی۔
ترکیہ، انڈونیشیا اور آذربائیجان نے اس فورس میں شامل ہونے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔
ادھر مصر نے زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ایک واضح اور با ضابطہ فیصلہ جاری کیا جائے تاکہ غزہ میں اس بین الاقوامی موجودگی کو مکمل قانونی حیثیت حاصل ہو۔
دوسری جانب اسرائیل نے اس بین الاقوامی فورس میں ترکیہ کی کسی بھی قسم کی شمولیت کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔