اسرائیلی فوج، داخلہ سیکورٹی کے ادارے شاباک اور سرحدی پولیس نے مغربی کنارے کے شمال میں ایک بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ فوج نے علاقے میں کے اندر اپنی نفری میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور بعض علاقوں میں بلڈوزر بھی داخل کر دیے ہیں۔
اس کے علاوہ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے نا معلوم اہداف پر فائرنگ کی، جب کہ فوج نے کرفیو نافذ کرتے ہوئے داخلی راستے کو رکاوٹوں اور فوجی چوکیوں کے ذریعے بند کر دیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق کارروائی منگل اور بدھ کی درمیانی رات شروع ہوئی، جس کا مقصد ’’مغربی کنارے کے شمالی حصے میں دہشت گردی کو روکنا‘‘ ہے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار یدیعوت آحرونوت نے بتائی۔
ذرائع کے مطابق کارروائی کئی دن جاری رہنے کا امکان ہے اور یہ "پانچ دیہات" کہلانے والے علاقے میں ہو گی جن میں طمون، طوباس اور عقابا شامل ہیں۔ اس دوران خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر گھر گھر تلاشی اور گرفتاریاں کی جائیں گی۔
اسرائیلی فورسز گزشتہ کئی ماہ سے مغربی کنارے میں متعدد چھاپے اور گرفتاریاں کر رہی ہیں۔
ادھر اسرائیلی آباد کاروں کے حملے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف گذشتہ سال اکتوبر میں مغربی کنارے میں آباد کاروں کی طرف سے 264 حملے کیے گئے، جو 2006 سے ریکارڈ رکھنے کے بعد ایک مہینے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اکثر یہ آباد کار مسلح ہوتے ہیں اور حملوں کا نشانہ نہتے فلسطینی بنتے ہیں۔
مغربی کنارا، جہاں تقریباً 27 لاکھ فلسطینی اور پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد کار رہتے ہیں، مستقبل کی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے بنیادی جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔
تاہم اسرائیلی حکومتیں گذشتہ برسوں میں تیزی سے یہاں آبادیاں بڑھاتی رہی ہیں، جس سے خطہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری ان آباد کاریوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔