اسرائیل کی 8 دسمبر سے پہلے کی پوزیشن پر واپسی کے بغیر اس کے ساتھ امن ممکن نہیں : شام

الشيباني نے اپنے ڈنمارک کے ہم منصب کا استقبال کرتے ہوئے کہا ’’بیت جن میں جو کچھ ہوا وہ اسرائیل کی جارحانہ کارروائی ہے‘‘.

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اور فوری اقدام کرے۔ ان کے مطابق بیت جن کے قصبے میں پیش آنے والا واقعہ ’’واضح اسرائیلی جارحیت‘‘ ہے۔ انھوں نے اپنے ڈنمارک کے ہم منصب لارس لوک راسموسن سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’’نیا شام اپنے تمام شہریوں کی وطن واپسی چاہتا ہے‘‘۔ انھوں نے زور دیا کہ اسرائیلی حملے خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے 1974 کے امن معاہدے کی پابندی پر شام کے عزم کو بھی دہرایا۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے شام کی بحالی، ریاست کی تعمیرِ نو اور اداروں کی مضبوطی کے لیے اپنے ملک کی حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ڈنمارک مالی امداد بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق کچھ ڈنمارکی کمپنیاں شام میں سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں مواقع تلاش کرنے میں دل چسپی رکھتی ہیں۔

اسرائیلی حملے کے حوالے سے شام کے وزیر اطلاعات حمزہ المصطفیٰ نے کہا کہ اسرائیل نے ’’شامی عوام کے بارے میں غلط اندازہ‘‘ لگایا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’8 دسمبر کے بعد مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے بغیر کوئی امن ممکن نہیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ شام اپنی زمین کے کسی بھی حصے سے دست بردار ہونے پر تیار نہیں، اور یہ کہ موجودہ فوجی کشیدگی بنیادی طور پر نیتن یاہو کے ذاتی سیاسی عزائم سے جڑی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی حملے شام کو اشتعال دلانے اور اسے براہِ راست عسکری تصادم کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہیں، مگر ریاست کسی بھی قیمت پر اپنی خود مختاری کا دفاع کرے گی۔

دوسری جانب شام کے قصبے بیت جن اور جنوبی حصے میں اسرائیلی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسرائیلی ڈرون مسلسل دوسرے روز قصبے کے اوپر پرواز کرتے رہے جبکہ اسرائیلی زمینی گشت نے جنوبی قنیطرہ کے دیہی علاقے میں پیش قدمی کی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب نے شامی صدر احمد الشرع کو سخت پیغامات بھیجے ہیں، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل ان علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا جہاں اسے خدشہ ہے کہ مخالف قوتیں مستحکم ہو جائیں گی۔ ان رپورٹس کے مطابق فی الحال دمشق کے ساتھ کسی نئے معاہدے کا کوئی امکان نہیں۔

اسرائیلی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ سکیورٹی ادارے آئندہ عرصے میں زمینی گرفتاریاں کم کر کے ہدفی فضائی حملوں پر زیادہ انحصار کریں گے۔ جمعے کو اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں بیت جن میں 13 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ اسی دوران ایک اسرائیلی گشتی دستہ بھی علاقے میں داخل ہوا۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ بیت جن میں پیش آنے والا واقعہ کوئی پیشگی منصوبہ بند کمین گاہ نہیں تھا بلکہ مقامی شہریوں کا فوری ردِ عمل تھا جنہوں نے اسرائیلی فوجی نقل و حرکت دیکھ کر فائرنگ شروع کر دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں