تہران نواز عراقی ملیشیا نے علاقائی تنازع میں شامل ہونے سے انکار کر دیا
ایران کے حمایت یافتہ "سيد الشهداء بریگیڈز" کے اعلان کے مطابق کسی بھی زمینی کارروائی میں عراق کا مفاد مقدم رکھا جائے گا
عراق میں ایران کی حامی مسلح ملیشیا "سید الشہداء بریگیڈز" نے واضح سیاسی پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ عراق کے قومی مفادات سب سے مقدم ہیں اور تنظیم کسی ایسے عسکری اقدام کا ارادہ نہیں رکھتی جو ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ممکنہ بڑے تصادم کی صورت میں عراق کو جنگ میں جھونک دے۔
عراقی خبر رساں ایجنسی "شفق نیوز" کے مطابق تنظیم کے ترجمان کاظم الفرطوسی نے کہا کہ عراقی دھڑوں کا نظریاتی موقف برقرار ہے، لیکن زمینی کارروائی ہمیشہ عراقی مفاد کے مطابق ہی ہو گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ عراق کو کسی حملے کے لیے گزرگاہ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے، خاص طور پر ایران کے خلاف۔
ترجمان نے بتایا کہ عراق کے پاس مؤثر فضائی دفاع اور جدید ریڈار سسٹمز نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ملک اس وقت اسرائیل، امریکہ یا دیگر قوتوں کے حملوں کے لیے کمزور اور دفاع سے خالی ہے۔ ترجمان کے مطابق اگر عراق نے اپنی دفاعی صلاحیتیں نہ بڑھائیں تو خطرات یقینی ہیں۔
اس بیان کا مجموعی مفہوم یہ ہے کہ تنظیم عراق کو جنگ کا میدان یا حملوں کا راستہ بننے نہیں دے گی اور علاقائی تنازع میں کسی فریق کا آلہ کار نہیں بنے گی۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی ہے کہ ایران کے زیر قیادت "مزاحمتی محور" کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ تنظیم ہر ممکن جنگ میں کود پڑے۔
یہ موقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر حملہ کیا، جس میں کئی ایرانی سائنس دان اور پاسدارانِ انقلاب کے افسر مارے گئے۔
اس کے جواب میں ایران نے درجنوں میزائل اسرائیل پر داغے۔ پھر امریکہ نے نطنز، فوردو اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات کو کو نشانہ بنایا۔بعد ازاں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے قطر میں امریکی فوجی اڈے "العدید" پر حملہ کیا، جس کے بعد ایک کمزور سا جنگ بندی کا اعلان ہوا۔
سکیورٹی امور کے عراقی ماہر احمد الشریفی کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کی ممکنہ نئی جنگ "صفر جمع" کا کھیل بن چکی ہے، جہاں ہر فریق دوسرے کو اپنے وجود کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ ان کے مطابق عراق کے ادارے اور سیاسی ڈھانچے اتنے مضبوط نہیں کہ عراقی دھڑوں کو ایران کے حق میں کسی تصادم میں شامل ہونے سے روک سکیں، جس کے باعث ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
گذشتہ دو دنوں میں مغربی عراق کی فضاؤں میں مشکوک پروازیں دیکھی گئیں، جبکہ کردستان میں خور مور گیس فیلڈ پر میزائل حملے نے بغداد میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق "سید الشہداء بریگیڈز" کا تازہ بیان اس بات کی علامت ہے کہ تنظیم ایران کی خاطر عراق کو ایک بڑی جنگ میں جھونکنے کے لیے تیار نہیں۔
-
عراق : ڈرون حملے کے بعد ایک گیس فیلڈ میں آپریشنز معطل
عراق میں ہونے والے ڈرون حملے کے بعد عراقی کردستان کے سب سے بڑے گیس فیلڈ میں سے ایک ...
مشرق وسطی -
حزب اللہ کے ہتھیار اس کے رہنماؤں کو بچا سکے نہ لبنانیوں کو : لبنانی وزیرا عظم
لبنان اسلحہ کو محدود کرنے اور ریاستی اقتدار اور خودمختاری کو نافذ کرنے کے معاملے ...
مشرق وسطی -
لبنان پر اسرائیل کا فضائی حملہ، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں مشکل ہے: امریکی ایلچی
حزب اللہ نے لبنان میں جنگ بندی کے ایک سال کے دوران بھی اپنے ہتھیار نہیں ڈالے ہیں: ...
مشرق وسطی