فرانس کے قائم مقام سفیر برائے شام جان بَتیست فافر نے اتوار کے روز اس بات پر زور دیا کہ شام کی وحدت، خود مختاری اور استحکام کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔ یہ سب بین الاقوامی قانون اور اسرائیلی و شامی افواج کے درمیان 1974 کے امن معاہدے کے مطابق ہونا چاہیے۔
فرانسیسی سفارت کار نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ شام کی خود مختاری اور اس کی سرزمین کی سالمیت کا احترام کرے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی جانب سے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ دمشق کے نواحی علاقے بیت جن میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے تمام ممالک کو جاری کوششوں کا حصہ بننا چاہیے تاکہ شام پورے خطے اور شامی عوام کے فائدے کے لیے امن، سلامتی اور استحکام کا مرکز بن سکے۔
اسی دوران العربیہ/الحدث کے نمائندے نے اطلاع دی کہ گذشتہ روز ہفتے کے دوسرے دن بھی اسرائیلی ڈرونز دمشق کے دیہی علاقے میں بیت جن قصبے کے اوپر پرواز کرتے رہے۔
یہ پروازیں اُس اسرائیلی زمینی در اندازی کے بعد جاری ہیں جس کے نتیجے میں جمعے کے روز مقامی باشندوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں شامی شہری ہلاک ہوئے اور اسرائیلی فوج کے 13 سپاہی زخمی ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں میں جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس میں زمینی پیش قدمی کے علاوہ نگرانی کے طیاروں کی وسیع پروازیں شامل تھیں۔
مزید برآں رپورٹوں میں کہا گیا کہ ایک اسرائیلی گشتی دستہ قنیطرہ کے جنوبی حصے میں داخل ہوا، جس کے بعد پورے علاقے میں شدید سکیورٹی الرٹ دیکھنے میں آیا۔
اسرائیلی چینل 13 نے جنوبی شام کے قصبے "بیت جن" میں ہونے والی کارروائیوں کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی سکیورٹی ادارے اب میدانی گرفتاریوں میں کمی اور فضائی ٹارگٹڈ حملوں پر زیادہ انحصار کی طرف بڑھ رہے ہیں، کیونکہ انہیں اپنے فوجیوں کی حفاظت کا خوف ہے۔
چینل نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا کہ بیت جن میں ہونے والا واقعہ کوئی پہلے سے تیار کردہ گھات نہیں تھا، بلکہ مقامی آبادی نے فوجی سرگرمی دیکھ کر جمع ہو کر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہ جھڑپ سامنے آئی۔
جمعے کی صبح اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں بیت جن میں 13 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ اسی دوران گاؤں کے اندر اسرائیلی عسکری گشتی کی پیش قدمی کے دوران 13 اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے۔
ادھر شام کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد مرکزی چوراہوں پر جمع ہوئے اور اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔ جمعے کی نماز کے بعد ہونے والے ان مظاہروں میں شرکاء نے شام کی وحدت کے حق میں نعرے لگائے اور اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔
-
اسرائیل کی 8 دسمبر سے پہلے کی پوزیشن پر واپسی کے بغیر اس کے ساتھ امن ممکن نہیں : شام
الشيباني نے اپنے ڈنمارک کے ہم منصب کا استقبال کرتے ہوئے کہا ’’بیت جن میں جو کچھ ...
مشرق وسطی -
شام کی تعمیر نو کی ہر ممکن کوشش کریں گے: احمد الشرع
حلب کی آزادی ایک تاریخی لمحہ تھا جس نے پورے شام کو از سر نو پیدا کیا: شامی صدر کا ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کی اپنے لبنانی نواسے کو اٹھائے تصویر وائرل، بیٹی ٹفنی کا تبصرہ بھی شامل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ٹفنی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کی سٹوری کی خاصیت کے ...
بين الاقوامى