رفح کراسنگ چند روز میں صرف غزہ کےلوگوں کی بیرون ملک منتقلی کے لیےکھولا جائے گا:اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی حکومتی رابطہ یونٹ برائے فلسطینی اراضی کوگات نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ رفح کراسنگ آئندہ چند روز میں صرف غزہ کے شہریوں کے مصر روانہ ہونے کے لیے کھولی جائے گی۔ یہ اقدام غزہ میں نافذ جنگ بندی کے معاہدے کے تحت کیا جا رہا ہے۔

کوگات نے "ایکس"پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی معاہدے اور سیاسی قیادت کی ہدایت کے مطابق رفح کراسنگ آئندہ دنوں میں خصوصی طور پر غزہ کے شہریوں کے مصر جانے کے لیے کھولی جائے گی۔ یہ عمل قاہرہ اور یورپی یونین کے مشن کے تعاون سے مکمل ہوگا جو کراسنگ کی نگرانی میں شریک ہے۔

کوگات فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی حکومتی رابطہ یونٹ ہے جو غزہ کے لیے امداد کی ترسیل کی ذمہ دار فوجی اتھارٹی سمجھی جاتی ہے۔

بدھ ہی کو غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع الزيتون میں اسرائیلی فوج کی گولی لگنے سے ایک فلسطینی شہری جاں بحق ہو گیا۔

فلسطینی خبر ایجنسی صفا کے مطابق بدھ کی صبح اسرائیلی فوج نے غزہ کے مشرقی علاقوں پر فضائی حملے کیے اور ٹینکوں سے شدید فائرنگ کی۔

ایجنسی نے بتایا کہ خان یونس کے مشرقی حصوں میں بھی اسرائیلی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی اور ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں سے فائرنگ کی گئی۔ اس کے ساتھ التفاح میں زرد لائن کے اندر اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران رہائشی عمارتیں بھی اڑا دی گئیں۔

منگل کو مختلف علاقوں میں اسرائیلی بمباری سے سات فلسطینی جان سے گئے۔

ایک اور پیش رفت میں اسرائیل نے بدھ کو کہا کہ غزہ سے موصول ہونے والی باقیات اور ہڈیوں کے ڈھانچے باقی ماندہ یرغمالیوں میں سے کسی کے نہیں ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفتر کے مطابق فرانزک رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ منگل کو حماس کی جانب سے واپس کیے گئے جسمانی باقیات دونوں آخری یرغمالیوں میں سے کسی سے تعلق نہیں رکھتے۔

دس اکتوبر کو نافذ جنگ بندی معاہدے کے مطابق حماس نے تمام 48 یرغمالیوں کی واپسی کا وعدہ کیا تھا جن میں سے 20 زندہ تھے۔ اب بھی غزہ میں 28 میں سے دو یرغمالیوں کی لاشیں موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں