امریکہ غزہ کا انتظام سنبھالنے والی کمیٹی کی جلد تشکیل کے لیے پُرعزم

امریکہ غزہ کا انتظام سنبھالنے والی کمیٹی کی نگرانی کے لیے امن کونسل بھی تشکیل دے گا: ہارٹز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عبرانی اخبار "ہارٹز" نے کہا ہے کہ امریکہ دو ہفتوں کے اندر عارضی طور پر غزہ پٹی کا انتظام سنبھالنے والی کمیٹی اور اس کی نگرانی کرنے والی امن کونسل کو تشکیل دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اخبار نے بتایا کہ واشنگٹن کی طرف سے جنوبی اسرائیل میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قائم کیے گئے سویلین- فوجی رابطہ مرکز کے عہدیداروں نے غیر ملکی سفارت کاروں کو مطلع کیا ہے کہ امریکہ دو ہفتوں کے اندر 15 دسمبر کو عارضی طور پر غزہ کا انتظام سنبھالنے والی کمیٹی اور اس کی نگرانی کرنے والی امن کونسل کا تعین کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اخبار نے کہا کہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پٹی کے مستقبل کے منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی طرف ایک اور قدم ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے گزشتہ اکتوبر میں جنوبی اسرائیل کے قریات جات میں سویلین- فوجی رابطہ مرکز (سی ایم سی سی) قائم کیا تھا تاکہ غزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے اور جنگ کے خاتمے تک پہنچا جا سکے۔

یہ معاہدہ صدر ٹرمپ کی طرف سے بنائے گئے ایک منصوبے پر مبنی ہے جس کے پہلے مرحلے میں جنگ بندی، امداد کی فراہمی اور دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے لیکن اسرائیل اپنی بار بار کی خلاف ورزیوں سے منصوبے کے دوسرے مرحلے تک جانے میں اب بھی رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں عبوری، غیر سیاسی فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی پر مشتمل ایک عبوری حکومت کے ذریعے غزہ کا انتظام اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک اقتصادی منصوبہ شامل ہے۔ اخبار ’’ ہارٹز‘‘ نے کہا کہ دو ہفتوں میں بننے والی کمیٹی غزہ کے مقامی رہائشیوں پر مشتمل ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی ہوگی اور یہ فلسطینی اتھارٹی کے اندر اصلاحات مکمل ہونے تک پٹی میں روزمرہ کی زندگی کا انتظام کرے گی جس میں مسلح افراد اور ان کے خاندانوں کو ادائیگیوں کو روکنا، درسی کتب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا اور انتخابات کرانا شامل ہے۔

اسرائیل نے جنگ کے بعد غزہ پٹی کے انتظام میں فلسطینی اتھارٹی یا حماس کے کسی بھی کردار کو مسترد کر دیا تھا۔ عبرانی اخبار نے کہا ہے کہ ذرائع کے مطابق امن کونسل کی صدارت مختلف ممالک کے نمائندے کریں گے اور ٹرمپ خود کونسل کی نگرانی کریں گے اور جیسا کہ امریکی صدر نے اعلان کیا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان نمائندوں میں سے ایک ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں