رفح کراسنگ کے حوالے سے اسرائیلی بیان ایک چال ہے، اس کا جواب دیں گے : فلسطینی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فلسطینی صدر کے مشیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر محمود الہباش نے کہا ہے کہ رفح کراسنگ کو ایک ہی سمت میں کھولنا اسرائیل کا ایک ’چال‘ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو بے دخل کرنا ہے۔ اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ ’فلسطینی اتھارٹی اور مصر اس منصوبے کو ہرگز آگے نہیں بڑھنے دیں گے‘۔

الہباش نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل کی تمام سوچ فلسطینیوں کی جبری ہجرت اور غزہ کی پٹی پر مسلسل قبضے کے گرد گھومتی ہے، اسی لیے وہ رفح کراسنگ کو صرف ایک سمت سے کھولنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ فلسطینی شہریوں کو باہر جانے پر مجبور کیا جائے اور انہیں واپس آنے سے روکا جائے۔

لیکن ڈاکٹر الہباش نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’مصر اور فلسطین کا مشترکہ موقف ان تمام باتوں کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے، اور فلسطینی عوام بھی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘۔

ڈاکٹر الہباش نے مزید کہا کہ ’اسرائیل یہ وہم رکھتا ہے کہ ایسے بیانات قاہرہ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، حالانکہ مصر کا موقف بہت واضح اور سخت ہے‘۔

جنوبی غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں اور عسکری کارروائیوں میں اضافے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی کا دعویٰ کر کے ساتھ غزہ کی پٹی میں وقفے وقفے سے فوجی کارروائیاں جاری رکھ کر ...یہ پالیسی مسلط کرنا چاہتی ہے تاکہ شہریوں پر دباؤ بڑھا کر انہیں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کرے۔

انہوں نے مزید کہا ’ہم اسرائیل کی نیتوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور بین الاقوامی برادری کے ذریعے اور مصر کے موقف کے گرد متحد ہو کر اس کے تمام جارحانہ منصوبوں کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے‘۔

اس سے قبل فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی سرگرمیوں کے رابطہ یونٹ ’’کوغات‘‘ نے بدھ کی صبح اعلان کیا تھا کہ رفح کراسنگ کو آنے والے دنوں میں صرف غزہ کے باشندوں کے مصر جانے کے لیے کھولا جائے گا اور یہ سب غزہ کی پٹی میں جاری جنگ بندی کے معاہدے کے تحت ہو گا۔

مصر نے اس بات کی مکمل تردید کی ہے۔ ایک حکومتی ذمے دار نے واضح کیا کہ اگر کراسنگ کھولنے پر کوئی اتفاق رائے ہوا تو آمد و رفت دونوں سمتوں میں ہو گی، تاکہ شہری داخل بھی ہو سکیں اور نکل بھی سکیں ... یہ سب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق ہو گا۔

مصر کے اس موقف پر رد عمل دیتے ہوئے ایک اسرائیلی عہدے دار نے کہا کہ ’اگر مصر غزہ کے باشندوں کو قبول نہیں کرنا چاہتا تو یہ اس کا مسئلہ ہے‘۔ مزید یہ کہ ’ہم رفح کراسنگ ان تمام غزہ کے شہریوں کے لیے کھول دیں گے جو پٹی سے نکلنا چاہتے ہیں‘۔

اسی دوران فتح تحریک نے رفح کراسنگ کو ایک ہی سمت کھولنے کی تجویز مکمل طور پر مسترد کر دی اور کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد واضح کرتی ہے کہ کراسنگ دونوں سمتوں میں کھلنا چاہیے۔

فتح تحریک نے اسرائیل کو جبری ہجرت کی کسی بھی پالیسی کے نتائج کا مکمل ذمہ دار ٹھہرایا۔ تحریک نے زور دے کر کہا ’غزہ سے جبری ہجرت قومی اور بین الاقوامی سطح پر ناقابلِ قبول ہے‘۔ مزید کہا گیا کہ رفح کراسنگ سے متعلق اسرائیلی بیانات اس کے اپنے وعدوں سے فرار کے مترادف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں