یاسر ابو شباب رفح میں اپنے آدمی کے ہاتھوں ہلاک ... حماس کی سخت مخالفت کے سبب معروف تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں ایک حملے میں یاسر ابو شباب موت کا شکار ہو گیا۔ وہ رفح کے مشرقی علاقے میں ایک مسلح فلسطینی گروہ کا سربراہ تھا جو حماس تنظیم کی سخت مخالفت کے لیے جانا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوجی ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ابو شباب ایک جھڑپ میں اپنے ہی ایک آدمی کے ہاتھوں زخمی ہوا، اسے جنوبی اسرائیل کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ یہ بات اسرائیلی فوجی ریڈیو نے بتائی۔

تاہم دیگر ذرائع کے مطابق اسے حماس تنظیم کے عناصر نے گھات لگا کر موت کے گھاٹ اتارا۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ابو شباب کی ہلاکت القسام بریگیڈز (حماس کا عسکری وِنگ) کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں ہوئی۔

تاہم فوجی ذرائع نے اسرائیلی فوجی ریڈیو کو یقین دلایا کہ اندازوں کے مطابق اسے اپنے ہی ایک آدمی نے ایک داخلی تنازع کے سبب ختم کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اس کی ہلاکت اسرائیل کے لیے ایک منفی پیش رفت ہے۔

ایک اسرائیلی سکیورٹی اہل کار نے بھی واضح کیا کہ ابو شباب کی ہلاکت سے متعلق رپورٹوں کی تحقیقات جاری ہیں۔

ابو شباب کا شمار حماس تنظیم کے مخالف نمایاں قبائلی رہنماؤں میں کیا جاتا تھا۔ اس کی ملیشیا غزہ کی پٹی کے جنوب میں اس حصے میں سرگرم تھی جو 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اب تک اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے۔

ابو شباب کے قریب موجود ایک سابق ذریعے نے بتایا کہ اس کے گروہ نے سیکڑوں جنگجوؤں کو پُر کشش تنخواہیں پیش کر کے اپنی طرف راغب کیا۔

دوسری جانب حماس تنظیم ہمیشہ سے ابو شباب پر اسرائیل کے ساتھ تعاون اور امداد چرانے کے الزامات لگاتی رہی ہے، جن کو وہ مسترد کرتا رہا۔ تاہم ابو شباب نے یہ ضرور کہا کہ وہ حماس تنظیم کے عناصر کو غزہ کی پٹی سے نکالنے اور اس کی گرفت کمزور کرنے پر کام کر رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک پرانے بیان میں ابو شباب نے کہا تھا کہ اس کے گروپ کی تشکیل اس لیے ہوئی کہ انہوں نے دیکھا کہ حماس تنظیم انسانی امداد چُرا کر بازاروں میں بیچتی ہے، اور جو کچھ بچتا ہے وہ اپنے عناصر اور ان کے خاندانوں میں تقسیم کرتی ہے۔

اس نے کہا تھا کہ انہوں نے حماس تنظیم کے ظلم کے آگے نہ جھکنے اور "القوات الشعبیۃ" کے نام سے ایک متبادل گروہ تشکیل دینے کافیصلہ کیا۔ ابو شباب کے مطابق گروہ کے مقاصد صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں بلکہ اس میں سکیورٹی اور سول ادارے قائم کرنا بھی شامل ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل ابو شباب کی کامیابی پر انحصار کر رہا تھا تاکہ وہ مزید غزہ کے باشندوں کو حماس تنظیم کے خلاف بھرتی کر سکے اور ضرورت پڑنے پر اس کے عناصر کا مقابلہ کر سکے۔ اسرائیل اسے سازوسامان اور مالی امداد بھی فراہم کر رہا تھا، جیسا کہ اسرائیلی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں