سعودی عرب کے مزید شہر "یونیسکو نیٹ ورک میں شامل
سوشل میڈیا کارکنوں کی مہارت سازی اور ہمہ گیر تعلیمی مواقع کا اعتراف
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس و ثقافت "یونیسکو" نے تین نئے سعودی شہروں العلا، مدینہ منورہ اور ریاض الخبراء ( قصیم گورنری) کو عالمی نیٹ ورک برائے تحصیل علم شہروں میں شامل کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بعد سامنے آیا جب ان شہروں نے وہ تمام بین الاقوامی معیار پورے کیے جن کے تحت سیکھنے کے عمل کو روزمرہ زندگی کا لازمی جزو بنایا جاتا ہے۔ ان میں سکول، دفاتر، عوامی مقامات اور گھروں میں سیکھنے کے مواقع کو مربوط کرنا شامل ہے۔
"یونیسکو" کے مطابق نئے شامل ہونے والے یہ شہر متحرک تعلیمی معاشروں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان شہروں نے افرادی قوت کی ازسرِ نو تربیت اور مہارت میں اضافے کے لئے جامع مواقع فراہم کیے تاکہ جدید عالمی منڈیوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اسی طرح ابتدائی مراحل میں تعلیم سے محروم رہ جانے والے طبقات کے لیے خواندگی اور بنیادی مہارتوں کو مضبوط کیا گیا۔ ان اقدامات نے ہر عمر کے شہریوں کو عصرِ حاضر خصوصاً مصنوعی ذہانت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کے قابل بنایا اور کاروباری فکر کے فروغ میں مدد دی۔
اس کے ساتھ ہی سعودی عرب کے آٹھ شہر اب "یونیسکو" کی عالمی نیٹ ورک آف لرننگ سٹیز میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں الجبیل، ینبع، مدینہ منورہ، الاحساء، کنگ عبدالله اکنامک سٹی، ریاض، العلا اور ریاض الخبراء شامل ہیں۔
"یونیسکو" نے واضح کیا کہ اس نیٹ ورک کا پھیلاؤ اس امر کا مظہر ہے کہ سعودی عرب نے ایک جامع تعلیمی ماڈل تشکیل دیا ہے جو ویژن سنہ 2030ء کے اہداف سے ہم آہنگ ہے اور اعلیٰ معیار کی تعلیمی مثالیں پیش کرتا ہے۔ یہ مسلسل سیکھنے کی ثقافت کو انسانی اور معاشی ترقی کی بنیاد کے طور پر مضبوط کرتا ہے۔
-
فٹبال عالمی کپ 2026 : سعودی عرب کی ٹیم اسپین، یوروگوائے اور کیپ وردے کے گروپ میں
سال 2026 میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والے فٹبال کے ...
مشرق وسطی -
سعودی نائب وزیر خارجہ دوحہ فورم 2025 میں شریک، ایجنڈے میں چھ نکات شامل
عالمی تجارت کا مستقبل، تکنیکی مقابلہ، مصنوعی ذہانت، سپلائی چینز، واشنگٹن بیجنگ ...
مشرق وسطی -
دو ریاستی حل ہی خطے کی سکیورٹی کی ضمانت مگراسرائیل اس سے انکار کر رہا ہے:سعودی عرب
غزہ فلسطین کا اٹوٹ انگ علاحدہ کرنے کا منصوبہ قبول نہیں
مشرق وسطی