افواہوں کی لہر کے بعد ... شامی وزیر انصاف کا سابق "مفتی اعظم" کے بارے میں انکشاف

مظہر الويس نے باور کرایا سزائے موت بہت بڑا فیصلہ ہے اور اس کے لیے علانیہ عدالتی سماعتیں اور اقدامات ضروری ہوتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گذشتہ چند دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلی کہ شامی حکام ملک کے سابق مفتی اعظم احمد بدرالدین حسون کو سزائے موت دینے والے ہیں۔ بہت سے شامی عوام انھیں "مفتی الاسد" (اسد کا مفتی) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

تاہم شام کے وزیرِ انصاف مظہر الويس نے اس بات کی سختی سے تردید کی اور واضح کیا کہ سابق مفتی بدرالدین حسون اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ حسون کا کیس وزارتِ داخلہ سے منتقل ہو کر وزارتِ انصاف میں تفتیشی جج کے پاس پہنچ چکا ہے اور جج نے قانونی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

وزیر کے مطابق اگر تفتیشی جج اس نتیجے پر پہنچے کہ حسون پر ایسے جرائم کے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر قانون کے مطابق سزا دی جا سکتی ہے، تو وہ فیصلہ تیار کر کے اسے قاضیِ احالہ کو بھیج دیں گے۔ لیکن اگر جج انہیں بے گناہ سمجھیں گے تو انہیں رہا کر دیا جائے گا۔

سزائے موت کے بارے میں وزیرِ انصاف نے کہا کہ یہ بہت بڑا معاملہ ہے جس کے لیے واضح اور مکمل عدالتی کارروائی ضروری ہے، اس طرح کی خبریں صرف فتنہ پھیلانے اور عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرنے کے مقصد سے پھیلائی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ انصاف ان افواہوں کی کئی بار تردید کر چکی ہے، مگر یہ افواہیں مسلسل دہرائی جا رہی ہیں، اس لیے وزارت نے ان پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے۔

حسون کی صحت کے بارے میں وزیر نے بتایا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور جیل میں زیرِ نگرانی ہیں، جہاں انہیں دیگر قیدیوں کی طرح تمام طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی وزارتِ انصاف نے ان خبروں کی تردید کی تھی جن میں حسون اور سابقہ حکومت کے دیگر چند عہدے داروں کے لیے سزائے موت کے فیصلوں کی بات کی گئی تھی۔

شامی حکام نے مارچ میں سابق مفتی احمد بدرالدین حسون کو حراست میں لیا تھا۔ اس وقت یہ خبر شامی حلقوں میں وسیع پیمانے پر گردش کرتی رہی اور بہت سے لوگوں نے اسے مثبت قدم قرار دیا تھا۔ اس لیے کہ عبوری انصاف کی طرف جانے اور سابق حکومت کے اُن اہل کاروں کے احتساب کی علامت سمجھا گیا جو مبینہ طور پر بشرطِ تحقیق و ثبوت جرائم میں ملوث رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں