شامی دارالحکومت دمشق کے فوجی اڈے پر گزشتہ روز ایسے شیل گرنے کی اطلاع کی تصدیق کی گئی ہے جن کی ابھی مکمل شناخت کا پتہ نہیں چلایا جا سکا۔
یہ خبر شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک رپورٹ میں دی ہے۔
شام کی سرکاری نیوز ایجنسی نے اس سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ دمشق کے اس فوجی اڈے کے نزدیک دھماکے کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تاہم فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا یہ دھماکے کیوں ہوئے ہیں۔ البتہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مغربی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' نے ماہ نومبر میں رپورٹ کیا تھا کہ امریکہ شام میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور دمشق میں ایک فوجی اڈے کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ اہتمام اس لیے کیا جا رہا ہے کہ خطے میں استحکام لانے کے لیے امریکہ اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ نیز امریکہ شام و اسرائیل کے درمیان سلامتی کے معاہدے کے لیے بھی کوشاں ہے۔
خیال رہے فوجی اڈا ملک کے جنوبی حصے کی طرف جانے کے لیے ایک 'گیٹ وے' کے طور پر کام کرتا ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ دنوں میں اس علاقے کو غیر فوجی زون بنایا جائے گا۔ تاکہ اسرائیل اور شام کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے پر عمل میں آسانی رہے۔
شام کی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے البتہ 'روئٹرز' کی ان اطلاعات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ جھوٹی خبریں ہیں۔ تاہم اس خبر کی مزید کوئی وضاحت سامنے نہیں آسکی ہے۔
خیال رہے امریکہ شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سلامتی کے معاہدے پر دستخط کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
دمشق کو امید ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل شام کے اس علاقے کو واپس کر دے گا جس پر اس نے حالیہ عرصے میں قبضہ کیا ہے۔