بیجنگ نے جمعرات کو کہا ہے کہ چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ یی جمعہ کو شرقِ اوسط کا دورہ شروع کریں گے جس کا مقصد متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اردن میں دو طرفہ مذاکرات کرنا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وانگ 12 سے 16 دسمبر تک وزرائے خارجہ سے مذاکرات کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات، شرقِ اوسط کی صورتِ حال اور مشترکہ تشویش کے اہم مسائل پر تبادلۂ خیال ہو گا۔
خطے میں دیرینہ امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرتے ہوئے بیجنگ نے حالیہ برسوں میں شرقِ اوسط سے تجارتی اور سفارتی تعلقات مضبوط کیے ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا، "چین کو توقع ہے کہ اس دورے کے ذریعے وہ تینوں ممالک سے سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم کر سکتا ہے۔"
بیجنگ نے شرقِ اوسط میں خود کو ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں اس نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان 2023 میں باہمی مفاہمت کے لیے سہولت فراہم کی۔ اور اسرائیل-فلسطین تنازعہ میں اپنے حریف امریکہ کے مقابلے میں خود کو زیادہ غیر جانبدار فریق کے طور پر پیش کیا ہے۔
چین اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے سلسلے میں بھی شرقِ اوسط پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ مذکورہ اقدام صدر شی جن پنگ کی قیادت میں گذشتہ عشرے کے دوران تیار کردہ ایک وسیع عالمی منصوبہ ہے۔
-
سعودی عرب اور ایران بیجنگ معاہدے پر مکمل عمل درآمد جاری رکھنے پر اتفاق
تینوں ممالک کا خطے میں سکیورٹی و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون بڑھانے پر زور
مشرق وسطی -
سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ اور ینبع میں ریکارڈ بارشیں
بارش کے موجودہ موسم نے جدہ اور ینبع میں معمولات زندگی کو شدیدمتاثر کیا ہے۔ شدید ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمن میں پائے دار امن کے لیے کوشاں ہیں : سعودی وفد
یمن کے صوبے حضرموت کا دورہ کرنے والے سعودی وفد کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل محمد ...
مشرق وسطی