عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے والے 'سڈنی کے ہیرو' احمد کی اسپتال میں تازہ ترین تصویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سڈنی کے مشہور بونڈائی ساحل پر ہونے والے حملے کے دوران ایک مسلح شخص پر قابو پانے والا شامی نژاد آسٹریلوی شہری احمد الاحمد عالمی ذرائع ابلاغ میں خبروں کی زینت بن گیا۔ احمد کی عمر 43 سال ہے اور ان کا تعلق شام کے شہر ادلب سے ہے۔ وہ اس وقت سڈنی کے "سینٹ جورج" اسپتال کے بستر پر زیر علاج ہیں جہاں انھیں زخمی حالت میں داخل کیا گیا تھا۔

نیو ساؤتھ ویلز کی حکومت کے سربراہ کرس مینز نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر احمد کی اسپتال میں لی گئی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا "احمد ایک حقیقی ہیرو ہیں۔ گذشتہ رات ان کی بے مثال بہادری نے یقینی طور پر بے شمار جانیں بچائیں جب انہوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایک دہشت گرد کو بے اثر کیا۔" مینز نے مزید کہا کہ وہ آج احمد سے ملاقات پر فخر محسوس کر رہے ہیں اور پورے نیو ساؤتھ ویلز کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

احمد کے خالہ زاد بھائی مصطفیٰ نے ٹی وی پر بتایا کہ احمد کو ہتھیار چلانے کا تجربہ نہیں تھا، تاہم انہوں نے جرات مندی سے مسلح شخص پر حملہ کر کے کئی لوگوں کی جانیں بچائیں۔ مصطفیٰ نے کہا کہ احمد "100٪ ہیرو" ہیں۔ انھوں نے تمام آسٹریلوی عوام سے احمد کے لیے دعا کی درخواست کی۔

سوشل میڈیا پر احمد کی ایک وڈیو جنگ میں آگ کی طرح پھیل گئی، اس میں وہ بغیر ہتھیار کے مسلح شخص کی جانب دوڑتے دکھائی دے رہے ہیں اور کامیابی کے ساتھ اس کا ہتھیار چھین لیتے ہیں۔

احمد دو چھوٹی بچیوں کے باپ ہیں، اس حملے کے دوران ان کا کندھا اور بازو زخمی ہوئے۔ انھیں اسپتال منتقل کر کے وہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔ آسٹریلیا، امریکہ اور دیگر ممالک کے عوام نے احمد کی بہادری کو سراہتے ہوئے آن لائن چندہ مہم شروع کی تاکہ اس نڈر اور دلیر انسان کی مالی معاونت کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size