قصیم اور شمالی ریاض میں برف باری کے مناسب مواقع ہیں ... سعودی قومی مرکز برائے موسمیات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب میں قومی مرکز برائے موسمیات کے ترجمان حسین القحطانی نے "العربيہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ قصیم اور ریاض کے شمالی علاقوں میں برف باری کے غیر معمولی امکانات موجود ہیں، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امکانات سعودی عرب میں اس وقت کے غیر معمولی موسمی حالات کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب کے شمالی حصوں میں تبوک اور حائل کے بلند علاقوں پر برف باری ہوئی ہے اور یہ ابتدائی سردی کی لہر کے تحت کئی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔ اس دوران درجہ حرارت میں واضح کمی دیکھی گئی اور برف محدود علاقوں میں گر رہی ہے۔

قحطانی نے کہا کہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے جا سکتا ہے اور کچھ مقامات پر منفی دو ڈگری تک پہنچ سکتا ہے، جو اس ابتدائی سردی کی شدت اور براہ راست اثر کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کو قومی مرکز برائے موسمیات کی ہدایات اور انتباہات پر عمل کرنا چاہیے۔ مزید یہ کہ موسمی حالات کو "انواء" ایپ، خود کار انتباہی نظام یا مرکز کے دیگر سرکاری ذرائع سے جانچنا چاہیے چاہیے۔ مزید یہ کہ جو لوگ اس موسم کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں انہیں متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مناسب وقت اور مقام کا انتخاب کرنا چاہیے تاکہ محفوظ طریقے سے موسم کی یہ صورتحال دیکھ سکیں۔

اسی دوران، القصیم یونیورسٹی کے سابق استاد اور سعودی موسمیاتی ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر عبد اللہ المسند نے اپنے سرکاری "ایکس" اکاؤنٹ پر بتایا کہ شمالی سعودی عرب میں کبھی کبھار برفانی طوفان آتے ہیں، لیکن یہ زیادہ تر محدود جغرافیائی علاقوں تک اور بہت مختصر وقت کے لیے ہوتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سعودی عرب میں برف باری کے لیے اہم جغرافیائی عوامل یا تو زمین سے اونچائی ہے، جیسا کہ جَبَل اللوز، یا ملک کے شمالی ترین حصے کا ہونا ہے۔

المسند کے مطابق برف کے گرنے کے لیے پیچیدہ قدرتی عوامل کا ہونا ضروری ہے، جن میں سطحی درجہ حرارت صفر یا دو ڈگری سے کم ہونا، سطحی اور اوپری ہوا میں نسبتا زیادہ نمی، اور نقطۂ اوس (dew point) کا صفر ہونا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام شرائط زیادہ تر علاقوں میں پورا ہونا مشکل ہے اور برفباری نایاب مواقع پر ہی ہوتی ہے، جیسے کہ جنوری 1973 میں جب ریاض اور الدرعیہ میں برف باری ہوئی تھی جو تقریباً تین گھنٹے جاری رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں