اسرائیل کا شام میں بفرزون کے قیام کا مطالبہ۔۔۔۔ دمشق نے کیا جواب دیا؟

اقوام متحدہ میں شام کے مندوب کا کہنا ہے کہ "ہمیں اپنی سرحدوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے وہاں اپنی سکیورٹی فورسز کی موجودگی کی ضرورت ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب ڈینی ڈینن نے شام میں ایک غیر مسلح علاقے کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جو دار الحکومت دمشق سے لے کر موجودہ بفر زون تک پھیلا ہوا ہو۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل "ایران، حزب اللہ، حماس، یا کسی بھی دوسرے گروہ کو شمالی سرحد پر دوبارہ منظم ہونے یا وہاں موجودگی برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا"۔ اسرائیلی مندوب نے گذشتہ روز (جمعرات کو) سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب اپنی شمالی سرحدوں کا "دفاع" کرے گا۔ مندوب کے مطابق "دہشت گردوں اور مسلح افراد" کو اسرائیلی سرحد کے قریب کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں شام کے مندوب ابراہیم علبی نے جمعرات کو کہا کہ دمشق 1974 میں تل ابیب کے ساتھ طے پانے والے "فوجی علیحدگی کے معاہدے پر کاربند ہے، جبکہ اسرائیل مسلسل اس کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہمیں اپنی سرحدوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے وہاں اپنی سکیورٹی فورسز کی موجودگی کی ضرورت ہے۔"

واضح رہے کہ شام اور اسرائیل کے درمیان بفر زون ایک ایسا علاقہ ہے جسے اقوام متحدہ نے 1974 کے معاہدے کے تحت جولان کی پہاڑیوں میں قائم کیا تھا۔ اسے "جامنی لکیر" کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں بین الاقوامی مبصر فورس تعینات ہے اور یہ اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور شام کے زیر انتظام حصے کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔

اسرائیلی افواج جنوبی شام میں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر دراندازی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل نے جنوبی شام میں 1974 کے بفرزون کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے اپنی افواج اور فوجی ساز و سامان تعینات کر رکھا ہے۔ اس میں جبل الشیخ کا تزویراتی مشاہداتی مقام بھی شامل ہے۔

روئٹرز کے مطابق، امریکی ثالثی میں شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے چھ دور سرحدی علاقے میں استحکام کے لیے کسی سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ مذاکرات ستمبر 2025 سے معطل ہیں۔

چند روز قبل اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے انکشاف کیا تھا کہ دمشق کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر جاری مذاکرات میں رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ شامی فریق نے نئے مطالبات سامنے رکھے ہیں جس کی وجہ سے فریقین کے درمیان خلیج مزید وسیع ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں