اسرائیل کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے اعلان کیا ہے کہ تل ابیب کو ممکنہ طور پر غزہ اور لبنان میں کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو الیکشن سے قبل غزہ اور لبنان میں فوجی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے اگر قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا گیا تو یہ تین ماہ کے اندر یعنی سنہ 2025ء فروری میں ہوں گی۔
انتہا پسند دائیں بازو کے وزیر نے چینل 12 کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ حماس اور حزب اللہ کو قابو میں رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ حزب اللہ کو دوبارہ طاقت حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ وہ اسرائیل کے لیے نیا خطرہ نہ بنے۔
سموٹریچ نے مزید کہا کہ "ہم نے حماس کو تباہ کرنے کا کام ابھی مکمل نہیں کیا، ہم ایک موڑ پر ہیں"۔
انتہا پسند اسرائیلی وزیر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کے نمائندوں کے درمیان میامی میں جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں خوش آئند ماحول رہا، جس میں غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے نفاذ اور دوسرے مرحلے کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی صدر کے نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے ہفتے کو مذاکرات میں شریک افراد کے لیے جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ غزہ کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں قابلِ غور پیش رفت ہوئی، جس میں انسانی امداد کے دائرہ کار میں توسیع، قیدیوں کی لاشوں کی واپسی، اسرائیل کی فوج کی جزوی واپسی اور لڑائی کے درجے میں کمی شامل ہے۔
ادھر لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے ہفتے اعلان کیا کہ جنوب لیتانی میں ہتھیاروں کو محدود کرنے کی منصوبہ بندی مکمل ہونے کے قریب ہے، یہ اسرائیل کے ساتھ کیے گئے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت ہے، اور ملک دوسرے مرحلے کی تیاری کے لیے تیار ہے۔
یہ پیش رفت لبنان کے جنوب الناقورہ میں جمعہ کو ہونے والی "میکانزم کمیٹی" کے اجلاس کے بعد سامنے آئی، جس میں مثبت اشارے دیکھنے کو ملے۔