اسرائیل غزہ کی پٹی میں ہی رہے گا اور شام سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا : وزیر دفاع

یسرائیل کاتز کا کہنا ہے کہ "ہم مغربی کنارے میں اس وقت عملی طور پر خود مختاری کے مرحلے میں ہیں".

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاتز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے تمام حصوں سے کبھی دست بردار نہیں ہو گا، اور شام سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

کاتز نے مغربی کنارے میں 1200 رہائشی یونٹوں کی تعمیر کی تقریب کے دوران آج منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا "ہم غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"

انہوں نے مزید کہا "ہم مناسب وقت اور موزوں حالات میں شمالی غزہ کی پٹی میں آباد کاروں کی چوکیاں قائم کریں گے۔"

کاتز کا یہ بھی کہنا تھا کہ "ہم اس وقت عملی طور پر خود مختاری کے مرحلے میں ہیں اور یہ ان پوزیشنوں اور اس طاقت کا نتیجہ ہے جو اسرائیل نے 7 اکتوبر کے سانحے کے بعد دکھائی ہے، جس نے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں جو طویل عرصے سے میسر نہیں تھے۔"

شام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کاتز نے کہا "ہم شام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم شام کے اندر جبل الشیخ کی چوٹی اور بفر زون میں موجود ہیں۔"

گذشتہ برس 8 دسمبر کو سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے سے دست برداری اختیار کر لی ہے۔ اس کی افواج گذشتہ مہینوں کے دوران غیر فوجی علاقے میں داخل ہو چکی ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیل نے جنوبی شام میں بفر زون سے آگے فوجی دستے اور ساز و سامان بھی تعینات کر رکھا ہے، جس میں جبل الشیخ کا اسٹریٹجک مانیٹرنگ پوائنٹ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ "دمشق سے جبل الشیخ تک ایک غیر فوجی علاقہ بنانا چاہتے ہیں"، جسے شامی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے۔

ادھر روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے 6 دور، جن کا مقصد سرحدی علاقے میں استحکام کے لیے سکیورٹی معاہدہ طے کرنا تھا، کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ واضح رہے کہ یہ مذاکرات ستمبر 2025 سے تعطل کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں