اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاتز نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے تمام حصوں سے کبھی دست بردار نہیں ہو گا، اور شام سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
کاتز نے مغربی کنارے میں 1200 رہائشی یونٹوں کی تعمیر کی تقریب کے دوران آج منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے کہا "ہم غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"
انہوں نے مزید کہا "ہم مناسب وقت اور موزوں حالات میں شمالی غزہ کی پٹی میں آباد کاروں کی چوکیاں قائم کریں گے۔"
کاتز کا یہ بھی کہنا تھا کہ "ہم اس وقت عملی طور پر خود مختاری کے مرحلے میں ہیں اور یہ ان پوزیشنوں اور اس طاقت کا نتیجہ ہے جو اسرائیل نے 7 اکتوبر کے سانحے کے بعد دکھائی ہے، جس نے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں جو طویل عرصے سے میسر نہیں تھے۔"
شام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کاتز نے کہا "ہم شام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم شام کے اندر جبل الشیخ کی چوٹی اور بفر زون میں موجود ہیں۔"
گذشتہ برس 8 دسمبر کو سابق شامی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے سے دست برداری اختیار کر لی ہے۔ اس کی افواج گذشتہ مہینوں کے دوران غیر فوجی علاقے میں داخل ہو چکی ہیں۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے جنوبی شام میں بفر زون سے آگے فوجی دستے اور ساز و سامان بھی تعینات کر رکھا ہے، جس میں جبل الشیخ کا اسٹریٹجک مانیٹرنگ پوائنٹ بھی شامل ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ "دمشق سے جبل الشیخ تک ایک غیر فوجی علاقہ بنانا چاہتے ہیں"، جسے شامی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے۔
ادھر روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے 6 دور، جن کا مقصد سرحدی علاقے میں استحکام کے لیے سکیورٹی معاہدہ طے کرنا تھا، کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ واضح رہے کہ یہ مذاکرات ستمبر 2025 سے تعطل کا شکار ہیں۔
-
غزہ : اردن کے قائم کردہ فیلڈ ہسپتال میں پیچیدہ مگر کامیاب سرجری کا اہتمام
جنوبی غزہ میں قائم کیے گئے اردنی فیلڈ ہسپتال نے رواں ہفتے ایک مریض کی انتہائی ...
مشرق وسطی -
غزہ کی تعمیر نو کے لیے واشنگٹن کا بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر غور
مشاورتوں میں مصر سمیت کئی عرب اور علاقائی ممالک شریک ہیں
بين الاقوامى -
غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، رہائشیوں کو 'نئی سرحد' کا خوف
بمباری سے موت کا خوف ہے لیکن فسلطینی اپنی زمین چھوڑنے کو تیار نہیں
بين الاقوامى