حمص میں مسجد میں دھماکے کی ذمہ داری انصار السنہ نامی تنظیم نے قبول کرلی
حملے میں آٹھ افراد ہلاک، 18 زخمی، سعودی عرب سمیت عرب و علاقائی ممالک کی شدید مذمت
شام کے صوبہ حمص میں وادی الذهب کے علاقے میں واقع امام علی بن ابی طالب مسجد میں جمعہ کے روز ہونے والے دھماکے میں کم از کم 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔ شامی خبر رساں ادارے سانا کے مطابق بعد ازاں انصار السنہ نامی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔
تنظیم نے ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا کہ اس نے ایک دوسری جماعت کے افراد کے ساتھ مل کر مسجد کے اندر متعدد دھماکا خیز آلات نصب کر کے انہیں دھماکے سے اڑا دیا۔
اس گروہ نے وضاحت کی کہ اس کی بنیاد ایک سال قبل سابق حکومت کے خاتمے کے بعد رکھی گئی تھی اور یہ وہی تنظیم ہے جس نے جون میں دمشق کے ایک چرچ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ تنظیم کے بیان میں کہا گیا کہ ہمارے حملے آئندہ مزید بڑھتے رہیں گے۔
سانا نے وزارت صحت کے ایک ذمہ دار کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق دھماکے میں 8 افراد جاں بحق جبکہ 18 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
شامی وزارت داخلہ نے العربیہ اور الحدث چینلز کو بتایا کہ حمص حملے میں داعش کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ وزارت کے مطابق حملہ آور نے مسجد کے اندر بارودی مواد سے بھرا بیگ رکھا تھا۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جلد حملہ آور کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔
دوسری جانب شامی وزارت خارجہ نے حمص حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ کارروائی قرار دیا جس کا مقصد انتشار اور بدامنی پھیلانا ہے۔
وزارت خارجہ نے دہشت گردی کے تمام اشکال کے خلاف سخت مؤقف پر زور دیا اور کہا کہ ریاست ان جرائم میں ملوث تمام افراد کو جوابدہ ٹھہرائے گی۔
سانا کی جانب سے مسجد کے اندر کی تصاویر بھی جاری کی گئیں جن میں مسجد کے ایک کونے میں دیوار کے نچلے حصے میں بڑا شگاف دکھائی دیا جبکہ سیاہ دھواں دیوار کے ایک حصے پر پھیلا ہوا تھا اور قریب ہی قالین اور کتابیں بکھری ہوئی نظر آئیں۔
حملے کے فوری بعد اندرونی سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں، مسجد کو گھیرے میں لے کر سکیورٹی ناکہ بندی کر دی گئی اور متعلقہ اداروں نے تحقیقات اور شواہد اکٹھا کرنے کا عمل شروع کر دیا۔
سول ڈیفنس کی ٹیمیں بھی فوری طور پر زخمیوں کو بچانے اور لاشوں کو نکالنے کے لیے متحرک ہو گئیں۔
حمص میں سکیورٹی فورسز نے دھماکے کی جگہ کو گھیرے میں لے کر عام لوگوں کو قریب آنے سے روک دیا اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی۔
دھماکے کی نوعیت کے حوالے سے اطلاعات میں تضاد پایا گیا، ابتدائی معلومات کے مطابق مسجد کے اندر دھماکا خیز آلات پھٹے تھے۔
ایک شامی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ دھماکا ممکنہ طور پر خودکش حملہ بھی ہو سکتا ہے یا بارودی مواد کے ذریعے کیا گیا ہو۔
جمعہ کے روز سعودی عرب، عراق، ترکیہ، اردن، لبنان، قطر اور خلیج تعاون کونسل نے مسجد پر ہونے والے اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
-
شام: حمص صوبے کی مسجد میں دھماکا، 8 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی
حمص انفارمیشن ڈائریکٹریٹ کے مطابق دھماکا مسجد کے اندر نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا
مشرق وسطی -
سعودی عرب کی شام میں مسجد پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت
ریاض کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے اور پرامن شہریوں کو خوفزدہ کرنے کی کھلی مخالفت
بين الاقوامى