ایسے وقت میں جب متعدد عرب اور اسلامی ممالک نے یمن میں کشیدگی کم کرنے اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا ہے، واشنگٹن نے حضرموت اور المہرہ کی گورنریوں میں حالیہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ تشویش عبوری کونسل کی عسکری سرگرمیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکہ نے یمنی فریقین سے صبرو تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی اور مشرقی یمن میں کشیدگی کم کرنے اور حالات بہتر بنانے کے لیے ریاض اور ابوظبی کی قیادت کی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
واشنگٹن کے ان بیانات کے ساتھ برطانیہ کی جانب سے بھی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی کوششوں کی تائید سامنے آئی ہے تاکہ مشرقی یمن میں عسکری تناؤ کا سیاسی حل نکالا جا سکے۔ برطانوی حکومت میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے امور کے وزیرِ مملکت ہامش فالکنر نے کہا کہ ہم مشرقی یمن کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور صدارتی قیادت کونسل کے اپنے شراکت داروں کی سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ جلد از جلد حل تلاش کیا جا سکے۔
بین الاقوامی مؤقف میں آنے والی تازہ پیش رفت کے تناظر میں صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اور مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈر رشاد العلیمی نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد سے مطالبہ کیا کہ وہ یمنی مسلح افواج کی مدد کریں تاکہ کشیدگی پر قابو پایا جا سکے، ثالثی کے عمل کا تحفظ کیا جائے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری عسکری اقدامات کیے جائیں۔
یہ بات انہوں نے قومی دفاعی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے دوران کہی، جس میں صدارتی قیادت کونسل کے اراکین بھی شریک تھے۔ اجلاس میں مشرقی گورنریوں میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور عبوری کونسل کی عسکری سرگرمیوں کے دوران حضرموت اور المہرہ میں شہریوں کے خلاف ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لیا گیا۔
بیان میں حضرموت کے وادی نحب میں گذشتہ گھنٹوں کے دوران ہونے والے حملوں کا بھی ذکر کیا گیا، جنہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت میں جاری ثالثی کی کوششوں کے لیے صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا، جن کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور حالات کو سابقہ صورتحال پر واپس لانا ہے۔
اسی تناظر میں کونسل نے کہا کہ رواں ماہ کے آغاز سے جاری یہ مسلسل کشیدگی عبوری مرحلے کے طے شدہ حوالہ جات کی کھلی خلاف ورزی ہے، جن میں اقتدار کی منتقلی کا اعلان اور معاہدہ ریاض شامل ہیں۔ کونسل کے مطابق یہ اقدامات ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت اور سعودی اماراتی ثالثی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ کونسل نے کشیدگی میں کمی اور حالات کی بہتری کے لیے ان کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
ریاض نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ مشرقی یمن میں حضرموت اور المہرہ کی گورنریٹس میں جنوبی عبوری کونسل کی جانب سے کی گئی عسکری سرگرمیاں یکطرفہ تھیں، جن کے لیے نہ صدارتی قیادت کونسل کی منظوری لی گئی اور نہ ہی اتحاد کی قیادت سے کوئی ہم آہنگی کی گئی۔ اس کے نتیجے میں بلاجواز کشیدگی پیدا ہوئی جس سے یمنی عوام کے تمام طبقات، جنوبی مسئلے اور اتحاد کی کوششوں کو نقصان پہنچا۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ مملکت نے گذشتہ عرصے کے دوران صفوں کی یکجہتی پر توجہ دینے اور دونوں گورنریوں میں حالات کے پرامن حل کے لیے ہر ممکن کوشش کو ترجیح دی۔ بیان میں تمام یمنی قوتوں اور دھڑوں کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا اور ضبطِ نفس اختیار کرنے کی اپیل کی گئی تاکہ امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی اقدام سے بچا جا سکے، جس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
اسی سلسلے میں مملکت نے برادر ملک متحدہ عرب امارات، صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اور برادر یمنی حکومت کے ساتھ مل کر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کام کیا۔ اس مقصد کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ایک مشترکہ عسکری ٹیم عدن بھیجی گئی تاکہ جنوبی عبوری کونسل کے ساتھ ضروری انتظامات طے کیے جا سکیں۔
ان انتظامات کے تحت جنوبی عبوری کونسل کی فورسز کو حضرموت اور المہرہ سے باہر اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس جانا ہوگا اور وہاں کے کیمپ منظم طریقہ کار کے تحت، اتحاد کی نگرانی میں، درع الوطن فورسز اور مقامی انتظامیہ کے حوالے کیے جائیں گے۔
-
یمنی عوام کے مفادات کی خدمت اور ان کی امنگوں کی تکمیل میں سعودی کردار سراہتے ہیں: امارات
امارات نے اعادہ کیا کہ وہ ان تمام کوششوں کی حمایت کے لیے پُر عزم ہے جو یمن میں ...
مشرق وسطی -
عبوری کونسل کے اقدامات پر واضح سعودی موقف کا خیرمقدم کرتے: یمنی شوری کونسل
عبوری کونسل کی فورسز کی پیش قدمی نے ریاض معاہدے کی واضح طور پر خلاف ورزی کی
مشرق وسطی -
یمنی حکومت کی ملک میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودی عرب کی کاوشوں کی ستائش
یمنی قیادت کونسل کے صدر رشاد العیلیمی نے یمنی عوام کی حمایت اور ملک میں کشیدگی ...
مشرق وسطی