یمن کے مشرقی گورنریوں میں تیز رفتار پیش رفت اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اور مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈر رشاد العلیمی نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم آئینی حکومت کے اتحادسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی مسلح افواج کی مدد کرے تاکہ کشیدگی پر قابو پایا جا سکے، ثالثی کے عمل کا تحفظ کیا جائے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری عسکری اقدامات کیے جائیں۔
یہ بات انہوں نے قومی دفاعی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کے دوران کہی، جس میں صدارتی قیادت کونسل کے اراکین سلطان العرادہ، ڈاکٹر عبداللہ العلیمی اور عثمان مجلی نے شرکت کی۔ ’سبا‘ نیوز ایجنسی کے جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس میں حضرموت اور المہرہ کی صورتحال پر غور کیا گیا، جہاں عبوری کونسل کے عسکری جارحیت اور یکطرفہ اقدامات نے یمن اور خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
اجلاس کے دوران کونسل نے مشرقی گورنریوں میں ہونے والی تازہ پیش رفت سے متعلق رپورٹس کا بھی جائزہ لیا اور ان سنگین خلاف ورزیوں پر توجہ دی جو عبوری کونسل کی عسکری سرگرمیوں کے دوران حضرموت اور المہرہ میں شہریوں کے خلاف سامنے آئیں، یہاں تک کہ حضرموت کے وادی نحب میں گذشتہ گھنٹوں کے دوران ہونے والے حملے بھی زیر بحث آئے۔ بیان کے مطابق ان کارروائیوں کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت میں جاری ثالثی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا، جن کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور حالات کو سابقہ صورتحال پر واپس لانا ہے۔
اسی تناظر میں کونسل نے کہا کہ رواں ماہ کے آغاز سے جاری یہ مسلسل کشیدگی عبوری مرحلے کے طے شدہ حوالہ جات کی صریح خلاف ورزی ہے، جن میں اقتدار کی منتقلی کا اعلان اور معاہدہ ریاض شامل ہیں۔ کونسل کے مطابق یہ اقدامات ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت اور سعودی اماراتی ثالثی کوششوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ کونسل نے کشیدگی میں کمی اور حالات کی بہتری کے لیے ان کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
کونسل نے جنوبی عبوری کونسل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ضروری انتظامات پر عمل شروع کرے تاکہ اس کی فورسز کو حضرموت اور المہرہ سے باہر اپنی سابقہ پوزیشنوں پر واپس بھیجا جا سکے اور وہاں کے کیمپ منظم طریقہ کار کے تحت اتحاد کی نگرانی میں درع الوطن فورسز اور مقامی انتظامیہ کے حوالے کیے جائیں۔