شامی ساحلی علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران نقاب پوشوں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار اور 3 مظاہرین کی ہلاکت کے بعد شام کی وزارتِ دفاع نے لاذقیہ اور طرطوس میں فوج کے داخلے کا اعلان کر دیا۔
وزارتِ دفاع کے میڈیا اور کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اتوار کی شام ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی مدد سے فوج کے دستے لاذقیہ اور طرطوس کے شہروں کے مراکز میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ کارروائی قانون شکن گروپوں کی جانب سے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بعد کی گئی ہے۔
صور حصرية لـ "العربية" تظهر انتشار الأمن السوري بموقع الاشتباكات في اللاذقية التي أوقعت قتلى وجرحى في صفوف الأمن #قناة_العربية #نشرة_الخامسة #سوريا pic.twitter.com/J5T9piUyNa
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) December 28, 2025
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فوج کا مشن داخلی سکیورٹی فورسز کے تعاون سے امن کا تحفظ اور استحکام کی بحالی ہے۔
تین مظاہرین کی موت
یہ پیش رفت ساحلی علاقے میں علوی برادری کے ہزاروں افراد کے مظاہرے کے بعد سامنے آئی جو حمص شہر کی ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے کے دو دن بعد منعقد کیا گیا جہاں اس اقلیت کے لوگ کثرت سے جاتے تھے۔ اس دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایک سکیورٹی ذریعے نے "العربیہ/ الحدث" کو بتایا کہ ایک سکیورٹی اہلکار سابقہ نظام کے باقیات سے تعلق رکھنے والے نقاب پوشوں کی جانب سے چلائی گئی گولی سے جاں بحق ہوا۔
’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کے ذرائع نے بشار الاسد نظام کے باقی رہ جانے والے گروپوں کی فائرنگ سے مظاہرین کے درمیان زخمیوں اور 3 ہلاکتوں کا بھی بتایا۔ دوسری جانب وزارتِ داخلہ نے لاذقیہ اور جبلہ میں سابق نظام کے باقیات کے حملے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کا اعلان کیا۔ لاذقیہ میں انٹرنل سکیورٹی کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عبد العزیز الاحمد نے ایک بیان میں بتایا کہ مسلح افراد نے لاذقیہ میں احتجاج کے دوران ہوائی فائرنگ کی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔
الصحفي زياد الريس:
— العربية (@AlArabiya) December 28, 2025
●فلول نظام الأسد تحاول خلق حالة من الفوضى في سوريا عبر إطلاق النار على المتظاهرين
● بقايا المليشيات الإيرانية تحاول زعزعة أمن سوريا بذريعة "الدفاع عن الأقليات"
● جهات خارجية تمول تظاهرات الساحل السوري بهدف تقسيم البلاد#قناة_العربية #نشرة_الرابعة pic.twitter.com/ukROwsZyMd
اعلیٰ علوی اسلامی کونسل کے سربراہ شیخ غزال غزال نے پرامن احتجاج کی کال دی تھی جو سابق نظام کے خاتمے کے بعد اپنی نوعیت کا دوسرا احتجاج ہے۔ انہوں نے ہفتے کو ایک ویڈیو خطاب میں عوام سے متحرک ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کا دن ایک پرامن انسانی طوفان ہوگا جو چوکوں کو بھر دے گا۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ دنیا کو ثابت کر دیں کہ علوی طبقے کی نہ تو توہین کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
الأخ سامر مصطفى الشغري الجندي في الأمن العام، شهيداً جميلاً على أيدي فلول عصابات أسد في #اللاذقية… عظم الله أجر أهله ومحبيه، وإخواننا في وزارة الداخلية، وكل أبناء الشعب السوري سند هذه الدولة العتيدة، واللعنة لقاتليه.. pic.twitter.com/zO60PCO6Oz
— د ـ أحمد موفق زيدان (@Ahmadmuaffaq) December 28, 2025
یاد رہے شامی ساحل پر گزشتہ مارچ میں تشدد کی خونی لہریں دیکھی گئی تھیں۔ دمشق نے سابق صدر بشار الاسد کے مسلح حامیوں پر سکیورٹی فورسز پر حملہ کر کے بحران بھڑکانے کا الزام لگایا تھا۔ حق تلفی کے واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے قائم کردہ قومی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان واقعات میں کم از کم 1426 علوی ہلاک ہوئے اور اس دوران درجنوں سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔
-
شام کے ساحلی علاقوں میں پرتشدد مظاہرے، متعدد سکیورٹی اہلکار زخمی
اسد دور کی باقیات کے عناصر کا لاذقیہ اور جبلہ میں سکیورٹی فورسز پر حملہ
مشرق وسطی -
لبنان اور شام سرحد پر افسوسناک حادثہ،بچوں سمیت 11 افراد ہلاک
ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ لبنانی فوج نے انہیں شبرونیہ کے علاقے میں واقع بڑے ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کی شام میں مسجد پر دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت
ریاض کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے اور پرامن شہریوں کو خوفزدہ کرنے کی کھلی مخالفت
بين الاقوامى