چار افراد قتل، شامی فوج امن قائم کرنے کے لیے اللاذقیہ اور طرطوس میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی ساحلی علاقوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران نقاب پوشوں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار اور 3 مظاہرین کی ہلاکت کے بعد شام کی وزارتِ دفاع نے لاذقیہ اور طرطوس میں فوج کے داخلے کا اعلان کر دیا۔

وزارتِ دفاع کے میڈیا اور کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اتوار کی شام ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی مدد سے فوج کے دستے لاذقیہ اور طرطوس کے شہروں کے مراکز میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ کارروائی قانون شکن گروپوں کی جانب سے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بعد کی گئی ہے۔

بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فوج کا مشن داخلی سکیورٹی فورسز کے تعاون سے امن کا تحفظ اور استحکام کی بحالی ہے۔

تین مظاہرین کی موت

یہ پیش رفت ساحلی علاقے میں علوی برادری کے ہزاروں افراد کے مظاہرے کے بعد سامنے آئی جو حمص شہر کی ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے کے دو دن بعد منعقد کیا گیا جہاں اس اقلیت کے لوگ کثرت سے جاتے تھے۔ اس دھماکے میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایک سکیورٹی ذریعے نے "العربیہ/ الحدث" کو بتایا کہ ایک سکیورٹی اہلکار سابقہ نظام کے باقیات سے تعلق رکھنے والے نقاب پوشوں کی جانب سے چلائی گئی گولی سے جاں بحق ہوا۔

’’ العربیہ/ الحدث ‘‘ کے ذرائع نے بشار الاسد نظام کے باقی رہ جانے والے گروپوں کی فائرنگ سے مظاہرین کے درمیان زخمیوں اور 3 ہلاکتوں کا بھی بتایا۔ دوسری جانب وزارتِ داخلہ نے لاذقیہ اور جبلہ میں سابق نظام کے باقیات کے حملے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کا اعلان کیا۔ لاذقیہ میں انٹرنل سکیورٹی کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عبد العزیز الاحمد نے ایک بیان میں بتایا کہ مسلح افراد نے لاذقیہ میں احتجاج کے دوران ہوائی فائرنگ کی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔

اعلیٰ علوی اسلامی کونسل کے سربراہ شیخ غزال غزال نے پرامن احتجاج کی کال دی تھی جو سابق نظام کے خاتمے کے بعد اپنی نوعیت کا دوسرا احتجاج ہے۔ انہوں نے ہفتے کو ایک ویڈیو خطاب میں عوام سے متحرک ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کا دن ایک پرامن انسانی طوفان ہوگا جو چوکوں کو بھر دے گا۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ دنیا کو ثابت کر دیں کہ علوی طبقے کی نہ تو توہین کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے شامی ساحل پر گزشتہ مارچ میں تشدد کی خونی لہریں دیکھی گئی تھیں۔ دمشق نے سابق صدر بشار الاسد کے مسلح حامیوں پر سکیورٹی فورسز پر حملہ کر کے بحران بھڑکانے کا الزام لگایا تھا۔ حق تلفی کے واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے قائم کردہ قومی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان واقعات میں کم از کم 1426 علوی ہلاک ہوئے اور اس دوران درجنوں سکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں