سعودی عرب میں نیند کی صحت کے شعبے میں ایک نمایاں اور معیاری تبدیلی کی بنیاد اس وقت پڑی جب ڈاکٹر احمد باہمام نے نئی صدی کے آغاز میں مملکت میں "سلیپنگ ریسرچ "کا پہلا اکیڈمک تحقیقی مرکز قائم کیا۔ اس اقدام نے بعد ازاں عالمی طبی تحقیق کے نقشے پر سعودی عرب کی مؤثر موجودگی کو مستحکم کر دیا۔
ڈاکٹر احمد باہمام نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں بتایا کہ اس قائدانہ سفر کا اعتراف حال ہی میں اس وقت ہوا جب انہیں تحقیقِ،سائنس اور جدت کے شعبے میں ڈاکٹر آف دی ایئر عرب ایوارڈ 2025ء سے نوازا گیا۔ ان کے مطابق یہ اعزاز اس امر کی واضح علامت ہے کہ سعودی طبی تحقیق اب محض علم حاصل کرنے کے مرحلے سے نکل کر علم کی تخلیق میں فعال شراکت دار بن چکی ہے۔
طبی عملے کی تیاری
ڈاکٹر باہمام نے وضاحت کی کہ مملکت میں طبِ نیند کے پہلے اکیڈمک تحقیقی مرکز کے قیام نے ایک ہمہ گیر سائنسی نظام کی بنیاد رکھی۔ اس کا آغاز خصوصی طبی نگہداشت سے ہوا، پھر طبی عملے کی تیاری کا مرحلہ آیا اور بالآخر ایک ایسی تحقیقی فضا قائم ہوئی جو معاشرے کی صحت سے متعلق ضروریات سے جڑی ہوئی ہے اور سائنس کو صرف استعمال کرنے کے بجائے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں نیند کی طب کے سفر میں کئی اہم سنگ میل آئے، جن میں سنہ 2009ء میں پہلا منظم فیلوشپ پروگرام کا آغاز اور سنہ 2012ء میں اس شعبے کی باضابطہ منظوری شامل ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں سیکڑوں ماہرین اور تکنیکی عملہ تیار ہوا اور اس تخصص کی سائنسی بنیادوں پر ادارہ جاتی سطح پر مضبوطی ہوئی۔
عالمی درجہ بندی میں سعودی مقام
عالمی سطح پر مملکت کے مقام کے بارے میں ڈاکٹر باہمام نے کہا کہ سعودی عرب اب طبِ نیند کے میدان میں نمایاں درجہ رکھتا ہے۔ انہوں نے ScholarGPS کی سنہ 2025ء کی درجہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں گذشتہ پانچ برسوں میں دنیا کے سرفہرست محققین میں شامل کیا گیا ہے جبکہ جامعہ کنگ سعود کو بھی اسی تخصص میں دنیا کی بہترین جامعات میں شمار کیا گیا ہے۔
تحقیقی نظام کی پختگی کا اعتراف
ڈاکٹر باہمام نے زور دیا کہ ڈاکٹر آف دی ایئر عرب ایوارڈ 2025ء کوئی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ سعودی تحقیقی نظام کی پختگی کا مظہر ہے۔ یہ کامیابی جامعات اور طبی مراکز کی فراہم کردہ معاون فضا، انسانی سرمائے میں ریاستی سرمایہ کاری اور تعلیم، تربیت اور بیرونِ ملک وظائف کے ساتھ ساتھ دانش مند قیادت کی براہِ راست سرپرستی کا نتیجہ ہے۔
اجتماعی کامیابیاں اور عالمی شراکتیں
انہوں نے کہا کہ یہ نتائج قومی تحقیقی ٹیموں، اعلیٰ تعلیم کے طلبہ اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ طویل المدتی سائنسی شراکت داریوں کا ثمر ہیں۔ اس سے سعودی تحقیقی ماحول کی بلوغت اور عالمی سطح کے قدیم تحقیقی مراکز سے مقابلے کی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کا ایشیائی سوسائٹی برائے طبِ نیند کی صدارت سنبھالنا بھی ایک نمایاں پیش رفت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیقی سرگرمیوں میں نمایاں وسعت آئی ہے، جس کے تحت سیکڑوں سائنسی تحقیقات اور حوالہ جاتی کتب شائع ہو چکی ہیں جبکہ تحقیق کا دائرہ پیچیدہ نیند کی خرابیوں اور تشخیص و علاج میں مصنوعی ذہانت کے استعمال تک پھیل چکا ہے۔
مقامی قیادت سے براعظمی تعلیم تک
ڈاکٹر باہمام کے مطابق سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ سعودی عرب نے خطے اور براعظم کی سطح پر علم حاصل کرنے والے کے بجائے رہنما اور معلم کا کردار اختیار کر لیا ہے۔ اس کی مثال طبِ نیند کے لیے ایک مشترکہ ایشیائی نصاب کی تیاری ہے جو اب خطے میں ایک مستند سائنسی حوالہ بن چکا ہے۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ویژن 2030ء اور صحت کے شعبے میں تبدیلی کے پروگرام نے طبی سائنسی تحقیق کو قومی ترجیحات کا مرکز بنا دیا ہے، جس سے نئی نسل کے محققین کے لیے وسیع امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے نوجوان ڈاکٹروں اور محققین کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں اور ایسے تحقیقی میدانوں کا انتخاب کریں جو معاشرے کی صحت سے متعلق حقیقی ضروریات سے جڑے ہوں۔ ان کے مطابق مملکت نے اپنی افرادی قوت میں سرمایہ کاری کی ہے اور اب اس سے توقع رکھتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر طبی علم کی پیداوار میں مؤثر شراکت دار بنیں.
-
نیلا کر دینے والی سردی ... سعودی عرب میں موسمِ سرما کی شدید ترین لہر کا آغاز
سالِ نو کے آغاز کے قریب آنے کے ساتھ ہی خطے میں شدید سردی کی لہر کی آمد ہے، جسے ...
مشرق وسطی -
حرم مکی میں معتمر کی جان بچانے کے بعد سعودی سپاہی نے کیا کہا؟ ویڈیو
ذمہ داری کے احساس نے مجھے اپنا فرض ادا کرنے پر ابھارا: ریان عسیری کی ’’ العربیہ‘‘ ...
مشرق وسطی -
جدید ترین این ویڈیا چپس سعودی عرب پہنچ گئیں: سربراہ ہیومین
سعودی مملکت کی اے آئی کمپنی ہیومین کے سربراہ طارق امین کے مطابق واشنگٹن اور ریاض ...
مشرق وسطی