قومی سلامتی کو لاحق کسی خطرے کا سختی سے جواب دیا جائے گا:سعودی کابینہ کا دوٹوک اعلان
ریاض کا ابو ظبی کی غیر ضروری کشیدگی پر اظہار افسوس، یمن کے استحکام سے وابستگی کا اعادہ
سعودی عرب کی کابینہ نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سعودی عرب اپنی قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی قسم کے خدشے یا خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات سے ہرگز دریغ نہیں کرے گا۔ کابینہ نے یمن کی سلامتی ،استحکام اور خودمختاری کے لیے مملکت کے پختہ عزم کو بھی دہرایا اور یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اور ان کی حکومت کے لیے مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
کابینہ نے ان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے انجام پر افسوس کا اظہار کیا جن پر مملکت نے خاص توجہ دی تھی مگر اس کے جواب میں غیر ضروری اشتعال انگیزی دیکھنے میں آئی جو یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے اتحاد کی بنیادوں سے متصادم ہے اور یمن کے امن اور استحکام کے اہداف کے لیے سودمند نہیں۔ یہ رویہ ان تمام یقین دہانیوں سے بھی ہم آہنگ نہیں جو سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے دی گئی تھیں۔
کابینہ نے یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے اتحاد کے کردار کو سراہا جس نے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی کی درخواست پر حضرموت اور المہرہ گورنریوں میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے اور امن و استحکام کے حصول اور تنازع کے دائرے کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کشیدگی میں کمی کی۔
کابینہ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ دانش مندی غالب آئے گی اور بھائی چارے ،حسن ہمسائیگی اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے باہمی قریبی تعلقات کے اصولوں کو ترجیح دی جائے گی ۔ ساتھ ہی برادر ملک یمن کے مفاد کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ اس تناظر میں متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ یمن کی درخواست پر 24 گھنٹے کے اندر اپنی افواج کے انخلا پر عمل کرے۔
#خادم_الحرمين_الشريفين يرأس جلسة #مجلس_الوزراء في الرياض.https://t.co/vkGqC1fMZO#واس pic.twitter.com/eOZR6jGxLt
— واس الأخبار الملكية (@spagov) December 30, 2025
اس کے ساتھ ساتھ جنوبی عبوری کونسل اور یمن کے اندر کسی بھی دوسرے فریق کو ہر قسم کی عسکری یا مالی معاونت بند کی جائے اور متحدہ عرب امارات وہ متوقع اقدامات اختیار کرے جن سے دوطرفہ تعلقات کا تحفظ ہو سکے جنہیں مضبوط بنانے میں مملکت دلچسپی رکھتی ہے اور خطے کے ممالک کی خوشحالی ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کاوشیں آگے بڑھ سکیں۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ کو روسی فیڈریشن کے صدر ولادیمیر پوتین کی جانب سے موصول ہونے والے مکتوب کے مندرجات سے بھی آگاہ کیا جو دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات سے متعلق ہے۔
بعد ازاں کابینہ نے گذشتہ دنوں میں ریاستی امور کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا بالخصوص سعودی عرب اور برادر اور دوست ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور دوطرفہ اور کثیر جہتی ہم آہنگی کو مختلف سطحوں پر فروغ دینے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا جن کا مقصد مشترکہ مفادات کا تحفظ اور خطے کے امن اور استحکام کو مستحکم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں کابینہ نے سعودی عمانی رابطہ کونسل کے تیسرے اجلاس کے نتائج کو سراہا اور معیشت ،تجارت، صنعت ،توانائی، سرمایہ کاری اور دیگر اہم شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی پیش رفت کی تعریف کی اور باہمی تعاون کے مواقع کو مزید وسعت دینے کی کوششوں پر زور دیا تاکہ دونوں برادر عوام مزید خوشحالی حاصل کر سکیں۔
اجلاس کے بعد سعودی وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘کو جاری بیان میں بتایا کہ کابینہ نے علاقائی واقعات اور ان کی تازہ ترین صورت حال کا بھی جائزہ لیا۔ سعودی عرب نے جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری ،اس کی علاقائی وحدت اور سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی قابض حکام اور نام نہاد صومالی لینڈ کے درمیان باہمی تعلقات کے اعلان کو مسترد کر دیا کیونکہ یہ یک طرفہ علیحدگی پسند اقدامات کو تقویت دیتا ہے جو بین الاقوامی قانون کے منافی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ کابینہ نے امدادی اور انسانی میدان میں مملکت کی کوششوں کا بھی جائزہ لیا جہاں سعودی عرب اپنے قائدانہ کردار کو جاری رکھتے ہوئے دنیا بھر میں ضرورت مندوں اور متاثرین کے لیے صحت ،تعلیم ،رہائش اور غذائی اشیا کی فراہمی سمیت انسانی اور ترقیاتی امداد فراہم کر رہا ہے۔ یہ تمام اقدامات اسلامی تعلیمات سے ماخوذ اصولوں اور اقدار کی روشنی میں انجام دیے جا رہے ہیں۔