یمن کی قیادت کونسل کے رکن طارق محمد صالح نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، سے ملاقات کی اور اس دوران یمن کی تازہ ترین صورت حال پر تبالہ خیال کیا۔
انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر بتایا کہ ملاقات میں یمن کے استحکام کی حمایت کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
طارق الصالح نے مزید کہا کہ سعودی وزیر دفاع کے ساتھ ملاقات میں بھائی چارے کے جذبات نمایاں تھے۔
انہوں نے کہا کہ " میں نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھائی چارے کے جذبے کے ساتھ ہم نے یمن کی موجودہ صورتحال اور یمن کے استحکام اور خطے کی سکیورٹی کے لئے مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر بات چیت کی۔"
عضو مجلس القيادة طارق محمد صالح: بحثت مع وزير الدفاع السعودي جهود دعم استقرار اليمن #قناة_العربية pic.twitter.com/YgLFRfGGHZ
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) January 4, 2026
ریاض میں کانفرنس کی تیاری
یہ ملاقات اس کے بعد ہوئی جب سعودی عرب نے یمن کے صدارتی کونسل کے صدر رشاد العلیمی کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا، جس میں ریاض میں جامع کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ جنوب کی تمام جماعتیں مکالمے کی میز پر بیٹھ کر جنوبی مسئلے کے منصفانہ حل تلاش کر سکیں۔
یہ یاد رہے کہ یمن کے جنوبی صوبوں کی سیاسی جماعتوں نے گذشتہ جمعہ کی شام اعلان کیا کہ وہ عبوری کونسل کے صدر عیدروس الزبیدی کے یک طرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتے ہیں، جو انہوں نے جنوبی مسئلے کے سلسلے میں کیے تھے۔
التقيت اليوم أخي سمو الأمير خالد بن سلمان وزير الدفاع في المملكة العربية السعودية الشقيقة.
— طارق محمد صالح (@tarikyemen) January 4, 2026
وفي لقاء عكس روح الاخوة، تبادلنا الرؤى حول المستجدات في الساحة اليمنية وسبل تعزيز الجهود المشتركة لدعم استقرار اليمن وأمن المنطقة. pic.twitter.com/U3sSfntJ9H
سعودی عرب کی مسلسل کوششیں
سعودی عرب صدارتی کونسل اور اس کی قانونی حکومت کی حمایت کی ہرممکن کوشش کررہا ہے۔ سعودی عرب کی مساعی کا مقصد سیاسی، اقتصادی اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے یمن میں استحکام اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔
سعودی عرب یہ بھی واضح کرتا ہے کہ جنوبی یمن کا مسئلہ ایک منصفانہ مسئلہ ہے جسے کسی سیاسی حل میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ یمن کے قومی مکالمے کے اہم نتائج کا حصہ ہے اور آنے والی کسی بھی سیاسی کارروائی میں اسے اتفاق رائے، وعدوں کی تکمیل اور یمن کے تمام باشندوں کے درمیان اعتماد قائم کرنے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔