امن بحالی کے لیے سعودی قیادت میں اتحاد کی کوششیں قابل تعریف ہیں: رشاد العلیمی

کیمپوں کا کنٹرول سنبھالنے کا آپریشن تیزی اور مہارت کے ساتھ مکمل کرلیا گیا: سربراہ یمنی صدارتی قیادت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کی بحالی میں سعودی عرب کی قیادت میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے مشترکہ اتحاد کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔ یہ کوششیں مشرقی یمن کے صوبوں حضرموت اور المہرہ میں تمام فوجی اور سکیورٹی ٹھکانوں کی واپسی کے بعد حالات کو معمول پر لے آئی ہیں۔ رشاد العلیمی کے مطابق یہ کارروائی اتحادی قیادت کے ساتھ مربوط منصوبوں کے تحت کی گئی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حضرموت اور المہرہ میں "کیمپوں کا کنٹرول سنبھالنے" کا آپریشن توقعات سے زیادہ تیزی اور مہارت کے ساتھ مکمل ہوا۔ اس آپریشن سے امن و استحکام اور سماجی ہم آہنگی کو تقویت ملی ہے۔

رقبے کے لحاظ سے یمن کے سب سے بڑے صوبے حضرموت ، جس کے اضلاع کی تعداد تقریباً 30 ہے، نے اس وقت ایک نیا باب کھولا ہے جب وہاں زندگی معمول پر آگئی ہے۔ یہ پیش رفت اسے جنوبی عبوری کونسل کی افواج سے آزاد کرانے کے بعد ہوئی جس نے گزشتہ دور میں مشرقی یمن میں تناؤ بھڑکایا تھا۔

دوسرے ملٹری ریجن کے میڈیا سینٹر نے نخبہ حضرمیہ، حضرموت پروٹیکشن فورسز اور درع الوطن افواج کی جانب سے فوجی اور سول تنصیبات کو محفوظ بنانے کی تصدیق کردی ہے۔ میڈیا سنٹر نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کی خاطر کیمپوں کے قریب نہ جائیں اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔

قانون کی حکمرانی

دوسری جانب رشاد العلیمی نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست قانون کی حکمرانی کو نافذ کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ ایسے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گی جو پبلک آرڈر کو نقصان پہنچائے یا ملک کے اعلیٰ قومی مفادات اور پڑوسی ممالک کی سلامتی کو متاثر کرے۔

انہوں نے قانون کی حکمرانی کو ایک مشترکہ ذمہ داری قرار دیا جس کے لیے صفوں میں اتحاد اور ریاستی اداروں کی بحالی اور ایرانی نظام کے تعاون یافتہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی بغاوت کو ختم کرنے کے لیے توانائیوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔

صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے دہشت گردی اور سمگلنگ کے خلاف جنگ، آبی گزرگاہوں کی حفاظت اور عالمی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں عالمی برادری کے ساتھ قریبی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

عببوری کونسل سے اپیل

اسی تناظر میں رشاد العلیمی نے عبوری کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کے راستے پر کاربند رہے، مختلف صوبوں میں اپنے یکطرفہ اقدامات سے دستبردار ہو جائے اور معاشی حالات کو خراب کرنے یا شہریوں اور اداروں کو اضافی خطرات میں ڈالنے سے گریز کرے۔ اسی طرح قومی، علاقائی و بین الاقوامی سطح پر متفقہ عبوری مرحلے کے حوالوں کے مطابق ریاستی اداروں کی تعمیر کے عمل میں سنجیدگی سے شامل ہو جائے۔

ریاض کانفرنس

اس کے ساتھ ہی رشاد العلیمی نے جنوبی مسئلے پر جامع مذاکرات کے لیے ایک کانفرنس کی میزبانی اور سرپرستی کی درخواست پر سعودی عرب کے مثبت جواب کو سراہا۔ انہوں نے اس برادرانہ و ذمہ دارانہ موقف کی تعریف کی جو یمن اور اس کے امن و استحکام کی حمایت کرنے اور ملک میں جامع حل کے ضمن میں سیاسی مذاکرات کے ذریعے قومی مسائل کو حل کرنے کے لیے مملکت کی قیادت کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

سٹریٹجک شراکت داری

رشاد العلیمی نے اس بات پر زور دیا کہ ریاض کا یہ جواب دونوں برادر ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کی گہرائی اور اس سٹریٹجک شراکت داری کی خصوصیت کا مظہر ہے جو جغرافیہ اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہے۔ یہ اقدام قومی اتفاقِ رائے کی سرپرستی اور امن کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے میں سعودی عرب کے مرکزی اور مسلسل کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size