شام ... حکومتی وفد امریکی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہے
اسرائیلی فوج کے یونٹوں نے سابق بشار حکومت کے ساتھ تعلق کے سبب 8 افراد کو حراست میں لے لیا
شام میں ایک سرکاری ذریعے نے "سانا" نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی اور جنرل انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ حسین السلامہ کی سربراہی میں ایک شامی وفد، امریکہ کی ثالثی اور رابطہ کاری سے اسرائیلی فریق کے ساتھ مذاکرات کے موجودہ دور میں شریک ہے۔
مذکورہ سرکاری ذریعے کے مطابق "ان مذاکرات کی بحالی شام کے اس پختہ عزم کی تصدیق ہے کہ وہ اپنے ان قومی حقوق کو دوبارہ حاصل کرے گا جن پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔" ذریعے نے مزید کہا "مذاکرات بنیادی طور پر 1974 کے 'فورسز کی علیحدگی کے معاہدے' (Disengagement Agreement) کو دوبارہ فعال کرنے پر مرکوز ہیں، تاکہ ایک ایسے مساوی سکیورٹی معاہدے کے فریم ورک کے تحت 8 دسمبر 2024 سے پہلے کی لائنوں تک اسرائیلی افواج کی واپسی کو یقینی بنایا جا سکے جو شام کی مکمل خود مختاری کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہو اور شام کے داخلی امور میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی روک تھام کی ضمانت دیتا ہو۔"
امریکی نیوز ویب سائٹ "ایکسیوس" (Axios) نے انکشاف کیا تھا کہ سکیورٹی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کی بحالی کی خاطر پیرس میں شامی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ملاقات کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ امریکی ویب سائٹ کو ذرائع نے بتایا کہ الشیبانی کی شرکت کے ساتھ یہ مذاکرات دو دن تک جاری رہیں گے، جو فریقین کے درمیان گہرے اختلافات کے نتیجے میں مذاکرات معطل ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد پہلی ملاقات ہے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یہ مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر دوبارہ شروع ہو رہے ہیں۔
دریں اثنا، سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) نے دمشق میں حکومتی حکام کے ساتھ ایک ملاقات کی تصدیق کی ہے جس میں ایک رسمی مکالمے کے فریم ورک کے تحت عسکری افواج کے انضمام کی فائل پر بحث کی گئی۔ قسد کے بیان میں واضح کیا گیا کہ دونوں فریقوں نے آنے والے مرحلے کے دوران ملاقاتیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ بات چیت کو مکمل کیا جا سکے اور نتائج برآمد ہونے تک اس فائل کی ایک منظم انداز میں پیروی کی جا سکے۔
داخلی معاملے میں شامی وزارت دفاع نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ فوج کے دستوں نے حلب کے مشرق میں 'دیر حافر' کے قریب 8 افراد کو گرفتار کیا ہے جن کا تعلق معزول صدر بشار الاسد کی حکومت سے ہے۔ یہ افراد غیر قانونی طور پر سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کے زیرِ اثر علاقوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ وزارت نے مزید کہا کہ زیرِ حراست افراد کو ضروری کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔
-
اسرائیل اور شام کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کے زیر قیادت وفد نے منگل کے روز اسرائیلی وفد کے ...
مشرق وسطی -
یورپی یونین سربراہ شام کا دورہ کریں گی
یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین اسی ہفتے کے دوران شام کا دورہ کریں گی۔ یہ ...
بين الاقوامى -
میڈیا کو غزہ میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی : اسرائیل
اسرائیلی حکام نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ غزہ میں میڈیا کو اب بھی رسائی نہیں دی ...
مشرق وسطی