تہران کی منڈیوں میں عام ہڑتال، حکومت کی عوام کو سات ڈالر مالی مدد کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران میں جاری مظاہروں کے دسویں دن تہران کی بڑی منڈی یعنی بازار میں منگل کو عمومی ہڑتال دیکھی گئی، جس کے دوران کئی دکانیں بند رہیں۔اسی دوران جنوبی مغربی علاقوں میں درجنوں ایرانی سڑکوں پر نکلے اور ملک کی خراب ہوتی اقتصادی اور معاشی صورتحال کے خلاف احتجاج کیا۔
صوبہ چارمحال و بختیاری کے دارالحکومت کرد میں بھی عوامی احتجاج دیکھنے کو ملا اور لوگ مہنگائی اور اقتصادی بحران کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔یہ مظاہرے اس اعلان کے بعد ہوئےجب ایرانی حکومت نے زیادہ تر شہریوں کو ماہانہ مالی مدد فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ،جس کی رقم تقریباً 7 امریکی ڈالر کے برابر ہوگی۔

ماہانہ قسط

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ خاندانی قوت خرید برقرار رکھی جا سکے، مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور غذائی تحفظ یقینی بنایا جا سکے، جیسا کہ ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ امداد کی رقم 3 ملین ریال سے بڑھا کر 10 ملین ریال کی جائے گی، یعنی تین گنا سے زائد اضافہ۔ یہ امداد نقد کی بجائے مستحق افراد کے کریڈٹ کارڈز میں جمع کی جائے گی تاکہ وہ بنیادی اشیاء خرید سکیں۔

مزید کہا گیا کہ ہر ماہ 10 ملین ریال خاندانی کھاتوں میں جمع کیے جائیں گے اور اس نئے منصوبے پر عمل درآمد 10 جنوری 2026 سے شروع ہوگا۔تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام زیادہ تر ایرانیوں کی اقتصادی مشکلات کو کم کرنے میں محدود اثر رکھےگا، کیونکہ بنیادی ضروریات کی کم از کم لاگت ماہانہ تقریباً 200 امریکی ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔

شدید اقتصادی بحران

یہ احتجاج تقریباً 9 دن قبل ایسے وقت میں شروع ہوئے، جب ایران امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، یہ پابندیاں مختلف معاملات کی وجہ سے لگائی گئی ہیں، جن میں سب سے اہم اس کا جوہری اور میزائل پروگرام ہے۔ حالیہ عرصے میں یہ بحران خاص طور پر ریال کی قیمت میں شدید کمی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔یہ احتجاج اسرائیل کے ساتھ جنگ کے تقریباً چھ ماہ بعد شروع ہوئے، جس میں ایران کو سخت نقصان پہنچا اور اس کے جوہری اور فوجی مراکز اور شہری مقامات تباہ ہوئے۔

اس جنگ میں امریکہ بھی مداخلت کی جو جون میں 12 دن جاری رہی، اس نے ایران کے تین بڑے جوہری مراکز پر بمباری کی۔احتجاج کم یا زیادہ شدت کے ساتھ کم از کم 20 شہروں میں پھیلے، جو خاص طور پر ملک کے مغربی حصے میں مرکوز تھے۔

تاہم موجودہ مظاہرے 2022 کے آخر میں ہونے والے احتجاج جتنے بڑے نہیں ہیں، جو مہسا امینی کی موت کے بعد ہوئے تھے۔ امینی کو اخلاقی پولیس نے حراست میں لیا تھا کیونکہ اس نے ایران میں سخت لباس کے قوانین کی پابندی نہیں کی تھی۔ امینی کی موت نے پورے ملک میں شدید غصے کی لہر پیدا کی، جو کئی مہینوں تک جاری رہی اور اس میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، جن میں سیکڑوں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں