عراق کی صدارت کے لیے چار خواتین سمیت 81 امیدوار میدان میں

عام طور پر سیاسی انتشار اور پیچیدگیاں اعلیٰ عہدوں کے امیدواروں پر اتفاقِ رائے کو طول دے دیتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراقی ایوانِ نمائندگان (پارلیمنٹ) کی جانب سے پیر کو امیدواروں کی فہرست بند ہونے کے بعد دی گئی معلومات کے مطابق چار خواتین سمیت 81 افراد نے عراق کے صدر کے عہدے کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ یاد رہے بڑی حد تک یہ ایک اعزازی عہدہ ہے اور سیاسی روایات کے مطابق اسے کرد شخصیت کے حصے میں آنا چاہیے۔ عراق میں صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے والی امریکی یلغار کے دو سال بعد 2005 میں ہونے والے پہلے کثیر جماعتی انتخابات سے رائج کوٹہ سسٹم کے مطابق حکومت کے سربراہ (وزیراعظم) کا عہدہ، جو سب سے طاقتور انتظامی منصب ہے، ایک شیعہ سیاست دان کے پاس ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کے سپیکر کا عہدہ کسی سنی کے حصے میں آتا ہے اور صدارت کا عہدہ ایک کرد سیاست دان سنبھالتا ہے۔

کرد سیاسی حلقوں میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی، جس کا گڑھ عراقی کردستان کا دارالحکومت اربیل ہے، اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان، جس کا گڑھ صوبے کا دوسرا بڑا شہر سلیمانیہ ہے، کے درمیان تاریخی مسابقت پائی جاتی ہے۔ عراقی پارلیمنٹ نے پیر کے روز ملک کی صدارت کے لیے 81 امیدواروں کی فہرست جاری کی۔

کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے اس عہدے کے لیے نگران حکومت کے وزیر خارجہ 76 سالہ فواد حسین اور اربیل کے سابق گورنر 63 سالہ نوزاد ہادی کو نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے اعلان کیا ہے کہ اس عہدے کے لیے ان کے واحد امیدوار سابق وزیر ماحولیات 57 سالہ نزار آمیدی ہیں۔ دیگر نمایاں امیدواروں میں موجودہ عراقی صدر 81 سالہ عبد اللطیف رشید، پیٹریاٹک یونین کے سابق رہنما 71 سالہ ملا بختیار اور سابق صدر فواد معصوم کی صاحبزادی 56 سالہ جوان فواد معصوم شامل ہیں۔

عراق میں عام طور پر سیاسی انتشار اور پیچیدگیاں اعلیٰ عہدوں کے امیدواروں پر اتفاقِ رائے کو طول دے دیتی ہیں معمول کی سیاسی چپقلش آئینی مہلت کی پابندی میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ نئی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس منتخب ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد 29 دسمبر کو ہوا جس میں سپیکر اور پہلے ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کیا گیا۔ اگلے روز اختلافات کے باعث ووٹنگ کے دو راؤنڈ ناکام ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے دوسرے ڈپٹی سپیکر کا انتخاب کیا گیا جو سیاسی روایت کے مطابق ایک کرد ہیں۔

آئین کے مطابق پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے بعد 30 دن کے اندر دو تہائی اکثریت سے صدر کا انتخاب ہونا چاہیے۔ پھر صدر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے انتخاب کی تاریخ سے 15 دن کے اندر وزیراعظم کو نامزد کرے ۔ وزیر اعظم آئین کے مطابق سب سے بڑے پارلیمانی بلاک کا امیدوار اور انتظامی اتھارٹی کا حقیقی نمائندہ ہوتا ہے۔ نامزدگی کے بعد وزیراعظم کے پاس حکومت بنانے کے لیے 30 دن کی مہلت ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں