سعودی عرب کاصومالیہ کی صورتحال پر مربوط اسلامی اقدام کا مطالبہ
موغادیشو کی وحدت کے خلاف متوازی ڈھانچوں کی مخالفت
سعودی عرب نے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے اور اسرائیلی قابض حکام اور صومال لینڈ کے درمیان باہمی اعتراف کے اعلان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ سعودی موقف کے مطابق یہ اقدام یک طرفہ علیحدگی پسند اقدامات کو تقویت دیتا ہے جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور اسلامی تعاون تنظیم کے منشور سے متصادم ہیں۔
اسی تناظر میں ریاض نے بین الاقوامی فورمز پر مربوط سفارتی اقدام کی اپیل کی ہے تاکہ صومالیہ کی وحدت پر زور دیا جا سکے اور ایسی خطرناک مثالوں کو روکا جا سکے جو رکن ممالک کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ سعودی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق اس باہمی اعتراف کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی اقدام یا تعاون کو مسترد کیا جانا چاہیے۔
یہ بات سعودی نائب وزیر خارجہ انجینئر ولید الخریجی نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کے دوران کہی۔ یہ اجلاس صومال کی صورتحال پر تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوا۔
ولید الخریجی نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب صومال کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی متوازی ڈھانچے کے قیام کی کوشش کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے صومال کی خودمختاری میں کسی بھی قسم کی تقسیم یا کمی کی مخالفت کرتے ہوئے صومالی ریاستی اداروں کی حمایت اور صومالی عوام کے استحکام کے لیے سعودی عزم کا اعادہ کیا۔
اسی سلسلے میں انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم اور اس کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک مضبوط اجتماعی اسلامی مؤقف اختیار کریں جو صومالیہ میں علیحدگی پسند اکائیوں کے ساتھ کسی بھی اعتراف یا روابط کو مسترد کرے اور اسرائیلی فریق کو اس طرز عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام سیاسی اور سکیورٹی اثرات کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرائے۔
دوسری جانب اجلاس میں فلسطینی مسئلہ ایک مرکزی حیثیت کے ساتھ زیر بحث آیا۔ سعودی عرب نے ایک بار پھر فلسطینی مسئلے کی اہمیت پر زور دیا اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا تاکہ برادر فلسطینی عوام کو حق خودارادیت حاصل ہو سکے اور وہ سنہ 1967ء کی سرحدوں پر اپنی آزاد ریاست قائم کر سکیں۔