مصنوعی ذہانت کے دور میں ملازمت کے انٹرویوز:وہ اہم سوال جو آپ کی نوکری کا فیصلہ کر سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

اگرچہ اب تک اس بارے میں کوئی حتمی جواب موجود نہیں کہ مصنوعی ذہانت ملازمتوں کے شعبے میں منافع اور نقصان کو کس طرح متاثر کرے گی، تاہم کم از کم ایک ایسا سوال ضرور ہے، جو مصنوعی ذہانت سے متعلق ہےاور جس کے جواب کے لیے ملازمت کے امیدواروں اور موجودہ ملازمین جو اپنی نوکریاں برقرار رکھنا چاہتے ہیں،اس کو 2026 تک واضح طور پر تیار رہنا ہوگا۔یہ بات ایم آئی ٹی (MIT) کے کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت لیبارٹری کی ڈائریکٹر ڈینیئلا رس (Daniela Rus) نے کہی۔

ان کے مطابق بھرتی کا معیار اب صرف کام انجام دینے کی صلاحیت تک محدود نہیں رہا، بلکہ انسان اور مشین کے باہمی تعاون کے دور میں ایک منفرد اور اضافی قدر پیش کرنا بھی ضروری ہو چکا ہے۔

یہ بات انہوں نے امریکی نیٹ ورک CNBCکو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جسے العربیہ بزنس نے رپورٹ کیا۔
مصنوعی ذہانت کا اثر پیداواری صلاحیت کے اعداد و شمار میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے، اگرچہ یہ اب تک غیر رسمی سطح پر ہے۔

منی ایپولس فیڈرل ریزرو کے صدر نیل کاشکاری نے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت بڑی کمپنیوں کو نئی بھرتیوں کے معاملے میں محتاط اور انتظار کی پالیسی اپنانے پر مجبور کر رہی ہے۔

کاشکاری نے کہا:اس بات کے بے شمار شواہد موجود ہیں کہ کمپنیاں اس ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہی ہیں اور اس کے ذریعے حقیقی پیداواری فوائد حاصل کر رہی ہیں۔تاہم مجموعی تصویر یکساں نہیں ہے۔ جہاں کچھ کمپنیاں اپنے ملازمین کی تعداد میں کمی کر رہی ہیں، وہیں دیگر کمپنیاں نئی شرائط کے تحت اپنی ٹیموں کو وسعت دے رہی ہیں۔

اے ایم ڈی (AMD) کی چیف ایگزیکٹو آفیسر لیزا سو نے لاس ویگاس میں منعقدہ سی ای ایس (CES) کانفرنس کے دوران وضاحت کرتے ہوئے کہا:ہم کم لوگوں کو ملازمت نہیں دے رہے، بلکہ مختلف قسم کے لوگوں کو بھرتی کر رہے ہیں… ایسے افراد کو جن کے پاس مصنوعی ذہانت کی جدید سوچ ہو۔

نئی مہارتیں یا ملازمتوں کا خاتمہ؟

گزشتہ ایک سال کے دوران شاپیفائی (Shopify)، ایکسنچر (Accenture) اور فائیور (Fiverr) جیسی کمپنیوں کے سربراہان کی جانب سے بیانات کی ایک لہر دیکھنے میں آئی، جہاں ایک طرف ملازمین کی برطرفیاں کی گئیں، وہیں دوسری جانب عملے کو مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتیں سیکھنے کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ لیبر مارکیٹ میں اپنی اہمیت کھونے سے بچ سکیں۔

فائیور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میخا کافمین نے کہا:ہماری ٹیموں کو مصنوعی ذہانت کی مہارتیں گہری کرنے کی ترغیب محض علامتی نہیں تھی، بلکہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ مصنوعی ذہانت ہر صنعت کو نئے سرے سے تشکیل دے رہی ہے۔
کمپنیاں اس تصور کو فروغ دے رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت معمول کے اور دہرائے جانے والے کام سنبھال لے گی، جبکہ انسان تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی اور پیچیدہ ذمہ داریوں پر توجہ دیں گے۔ اس تبدیلی کومتبادل کے بجائے تقویت (Enhancement) کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ وعدے لاگت میں کمی جیسے پوشیدہ اہداف کو بھی چھپا سکتے ہیں۔ڈینیئلا رس نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی طرف منتقلی صرف کارکردگی کا معاملہ نہیں، بلکہ اعتماد اور شفافیت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا:یہ خطرہ موجود ہے کہ یہ تبدیلی انسانی مہارتوں کو مضبوط بنانے کے بجائے انہیں کمزور کر دے۔

کون اپنے ہی مقابل کو تربیت دینے سے ڈرتا ہے؟

کوفمان نے اعتراف کیا کہ یہ خدشات آسانی سے ختم نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا:لوگوں کو یہ خوف ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے ٹولز کو تربیت دے رہے ہیں ،جو آخرکار ان کی جگہ لے لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو شخص مصنوعی ذہانت کو درست سمت دینے اور اس کے نتائج کو بہتر بنانے کا ہنر سیکھ لیتا ہے، وہ کام کی اگلی نسل کا انجینئر بن جاتا ہے۔
مشہور فری لانسنگ پلیٹ فارم فائیور (Fiverr) کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق 40 فیصد فری لانسرز مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ ہفتہ وار 8 گھنٹے سے زیادہ وقت بچا رہے ہیں، ساتھ ہی بہتر معیار اور زیادہ اجرت حاصل کر رہے ہیں۔

کیا تاریخ ہمیں اطمینان دلاتی ہے؟

ییل یونیورسٹی کے بجٹ لیب کی ایک تحقیق کے مطابق 2022 میں چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کے اجراء کے بعد اب تک لیبر مارکیٹ میں کسی بڑے پیمانے پر خلل کا مشاہدہ نہیں ہوا۔
تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بڑی تکنیکی تبدیلیاں عموماً برسوں نہیں بلکہ دہائیوں میں اثر دکھاتی ہیں۔ادھر مالی و انتظامی مشاورت فراہم کرنے والی کمپنی میکنزی (McKinsey) کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت نظریاتی طور پر امریکا میں کام کے اوقات کے نصف سے زیادہ حصے کو خودکار بنا سکتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب لازمی طور پر ملازمتوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ ان کی ازسرِنو تشکیل ہے، جہاں انسان اور مشین کے درمیان تعاون پر مبنی نئے کردار ابھر کر سامنے آئیں گے۔یہاں تک کہ کچھ کمپنیاں، جنہوں نے مصنوعی ذہانت پہلے(AI-first) کی پالیسی تیزی سے اپنائی، اس کی قیمت بھی چکا چکی ہیں۔
کلارنا (Klarna) نے اپنے 40 فیصد ملازمین کو برطرف کیا، لیکن بعد ازاں صارفین کی خدمات کے معیار میں کمی کے باعث انہیں دوبارہ کچھ ملازمین کو بھرتی کرنا پڑا۔
ایم آئی ٹی (MIT) کے پروفیسر آرمانڈو سولار-لیزاما نے کہا:تنظیمیں انسانی غلطیوں سے نمٹنے کے لیے تو تیار ہوتی ہیں، لیکن مصنوعی ذہانت کی غلطیوں سے نمٹنے کے لیے نہیں، اور اس کے مطابق ڈھلنے میں وقت لگے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں