واشنگٹن کا ریاض کی سرپرستی میں یمن کے جنوبی مکالمے کے لیے حمایت کا اعلان
رشاد العلیمی کے مطابق جنوب کا معاملہ ان کی اولین ترجیحات میں سے ہے
واشنگٹن نے جنوبی یمن کے حوالے سے جامع 'جنوبی ۔ جنوبی مکالمے' کی حمایت کا اعلان کیا ہے، جس کی میزبانی سعودی دارالحکومت ریاض کر رہا ہے۔ اس مکالمے کا مقصد ایک مشترکہ وژن کی تشکیل ہے، جو یمنی ریاست اور اس کے قانونی اداروں کے دائرے میں رہتے ہوئے جنوبی مسئلے کا حل پیش کرے۔
یمن میں امریکہ کے سفیر اسٹیفن واگن نے یمن میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بات دارالحکومت ریاض میں صدارتی قیادت کونسل کے نائب سربراہ عبد الرحمن المحرمی سے ملاقات کے دوران کہی۔ یہ ملاقات مشرقی اور جنوبی یمن کے صوبوں میں حالیہ پیش رفت کے بعد ہوئی۔
ریاض جنوبی مسئلے کو ایک منصفانہ مسئلہ قرار دیتا ہے جسے کسی بھی سیاسی تصفیے میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ یمنی قومی مکالمے کے نتائج اور کسی بھی آئندہ سیاسی عمل کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ جنوبی عوام کے تمام طبقات کا مسئلہ ہے، جس کا حل اتفاق رائے، وعدوں کی پاسداری اور یمنیوں کے درمیان اعتماد سازی کے ذریعے ہونا چاہیے۔
اسی دوران واشنگٹن نے یمنی دھڑوں سے تحمل اور ضبط نفس اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس نے ریاض کی قیادت کی جانب سے کشیدگی میں کمی اور ملک کے مشرقی و جنوبی علاقوں میں حالات کے حل کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
دوسری جانب صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رشاد العلیمی نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی کہ منصفانہ جنوبی مسئلہ کونسل اور حکومت کی اولین ترجیحات میں سرفہرست ہے۔
العلیمی نے یمنی عوام کے نام ایک خطاب میں یہ بھی کہا کہ جنوبی صوبوں کے عوام اور ان کے مختلف دھڑوں کی جانب سے سعودی سرپرستی میں جامع جنوبی مکالمہ منعقد کرنے کی اپیل کے جواب میں یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے مختلف ادوار میں ان صوبوں کے عوام کی جدوجہد کی تاریخ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس پر فخر کا اظہار کیا، جیسا کہ یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا نے رپورٹ کیا۔
اس سے قبل یمن کی حکومت نے تمام جنوبی شخصیات سے اپیل کی تھی کہ وہ کسی بھی آئندہ مکالماتی عمل کے ساتھ مثبت اور ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں۔ مزید یہ کہ کسی قسم کی محرومی یا مہم جوئی سے گریز کرتے ہوئے ایک جامع قومی مکالمے میں سنجیدگی سے شریک ہوں، تاکہ ایک ایسا مشترکہ وژن سامنے آ سکے جو جنوبی مسئلے کا حل پیش کرے۔