مصر کے تعلیمی شعبے میںیہ اقدام اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک اہم اسٹریٹجک تبدیلی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ مصر نے ٹیکنالوجیکل جامعات کے قیام کے تصور کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا ہے، تاکہ ایسے ماہر فنی افراد تیار کیے جا سکیں جو مقامی اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ یہ سب ریاست کے اُس منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد تعلیم کو معاشی ترقی سے جوڑنا ہے۔
مصری کابینہ نے اعلان کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران ٹیکنالوجیکل جامعات کے شعبے میں نمایاں توسیع دیکھنے میں آئی، جس کے بعد ان جامعات کی تعداد بڑھ کر 14 ہو گئی ہے، جو ملک کے مختلف صوبوں میں قائم ہیں۔
ادھر ڈاکٹر محمد عبدالغنی جو بنی سویف یونیورسٹی کے فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں شعبۂ معاشیات کے سربراہ ہیں، نے واضح کیا کہ تعلیم میں سرمایہ کاری پائیدار ترقی کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔
انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ / الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجیکل جامعات کا قیام جامعاتی تعلیمی نظام میں ایک حقیقی اور معیاری تبدیلی ہے، جس کے آنے والی نسلوں کے مستقبل پر براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے۔
صنعتی شعبے کی معاونت
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ جامعات اپنے ابتدائی مراحل ہی سے صنعتی شعبے کی مضبوطی میں کردار ادا کر رہی ہیں، جو معاشی طور پر ممالک کی ترقی کا بنیادی محرک سمجھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجیکل جامعات کے فارغ التحصیل طلبہ آئندہ برسوں میں صنعت کے پہیے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ریاست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی جانب گامزن ہے، جس کا انحصار بڑی حد تک تربیت یافتہ اور اہل افرادی قوت کی دستیابی پر ہوتا ہے۔
زرِ مبادلہ
انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ اگرچہ ٹیکنالوجیکل تعلیم میں سرمایہ کاری کی ابتدائی لاگت زیادہ ہوتی ہے، جو جدید انفراسٹرکچر اور جدید آلات کی فراہمی سے متعلق ہے، تاہم یہ سرمایہ کاری درمیانی اور طویل مدت میں نمایاں معاشی فوائد فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے بہاؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور ایسا انسانی سرمایہ تیار ہوتا ہے جو قومی معیشت کو سہارا دینے اور پائیدار ترقی کے حصول کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجیکل جامعات کے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے باوقار اور عالمی سطح پر درکار شعبوں میں ملازمت یقینی ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب مجلسِ شوریٰ (سینیٹ) کی تعلیم اور سائنسی تحقیق کمیٹی کی رکن ولاء ہرماس رضوان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ / الحدث ڈاٹ نیٹ کو خصوصی بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ سال 2025 کے دوران 14 ٹیکنالوجیکل جامعات کا قیام مصر میں جامعاتی تعلیم کی ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
مصنوعی ذہانت
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ جامعات نوجوانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجیکل شعبوں میں تربیت یافتہ افرادی قوت کے طور پر تیار کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جن میں سرفہرست مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ (ڈیجیٹل کاروبار)، نیز بامقصد الیکٹرانک گیمز کی اختراع اور ڈیزائن کے شعبے شامل ہیں، جو بچوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مفید ڈیجیٹل مواد کی تیاری میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جامعات ڈیجیٹل خیالات کو فروغ دینے، صلاحیتوں کی تعمیر اور ٹیکنالوجی سے وابستہ صلاحیتوں کو نکھارنے میں ایک مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، جس کا مثبت اثر ڈیجیٹل برآمدات میں اضافے اور عالمی سطح پر مصری معیشت کی مسابقت بڑھانے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرز کی تعلیم میں توسیع سے عالمی تعلیمی اشاریوں میں مصر کی درجہ بندی بہتر ہوتی ہے، مختلف صوبوں میں ڈیجیٹل معیشت کو تقویت ملتی ہے اور نوجوانوں کو نئے ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ کے لیے تیار کیا جاتا ہے، خواہ وہ مقامی سطح پر ہو یا بین الاقوامی، جس سے غیر ملکی کرنسی میں پرکشش تنخواہوں والی ملازمتوں کے دروازے کھلتے ہیں۔
-
آئرلینڈ کی وزیر دفاع کا رفح کی صورتحال کا جائزہ، مصر کے کردار کو اہم قرار دیا
آئرلینڈ کی وزیر ہیلن میکِنٹی جو وزیر امیگریشن، تجارت اور دفاع بھی ہیں، انھوںنے ...
مشرق وسطی -
واشنگٹن کی جانب سے الاخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ ... مصر کا خیر مقدم
ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ میں تنظیم کی تین شاخوں کو "دہشت گرد تنظیموں" کی فہرست ...
بين الاقوامى