فرائض کی خلاف ورزی کرنے پر فرج البحسنی کی رکنیت ختم کر دی: یمنی صدارتی کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن کی صدارتی قیادت کونسل نے جمعرات کو فرج سالمین البحسنی کی کونسل سے رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ البحسنی نے اجتماعی ذمہ داری کے اصول کو برقرار نہیں رکھا اور اپنے آئینی و قانونی فرائض اور وعدوں کی خلاف ورزی کی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فرج سالمین البحسنی نے اپنے آئینی عہدے کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے منحرف شدہ نام نہاد "جنوبی عبوری کونسل" کی غیر قانونی فوجی نقل و حرکت کو سیاسی اور قانونی تحفظ فراہم کیا۔ اس کے لیے انہوں نے صوبہ حضرموت کے باہر سے اپنے تابع دستوں کو جمع کرنے اور لانے کا جواز پیش کیا اور ملزم عیدروس الزبیدی کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات کی حمایت کی۔

جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا کہ البحسنی نے کشیدگی کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے پرامن کوششوں، جنوبی مذاکرات اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا۔

آئینی حیثیت کا غلط استعمال

فیصلے کے مطابق، البحسنی نے آئینی حیثیت کا غلط استعمال کیا اور کونسل کی رکنیت کو ریاست کے سرکاری موقف سے باہر بیانات دینے کے لیے استعمال کیا جس سے مقامی اور بین الاقوامی رائے عامہ میں ابہام پیدا ہوا اور ریاست کی ساکھ اور اس کے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی وعدوں کو نقصان پہنچا۔

صدارتی قیادت کونسل نے زور دیا کہ ان کے اقدامات نے قومی صفوں کے اتحاد کو کمزور کرنے، ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے اور پڑوسی ممالک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے میں حصہ لیا۔ یہ اقدام ریاست کے دشمنوں، بالخصوص ایرانی نظام کی حمایت یافتہ دہشت گرد حوثی ملیشیا اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے مفاد میں گیا۔

جنوبی عبوری کونسل تحلیل

واضح رہے جنوبی عبوری کونسل کے جنرل سکریٹری عبدالرحمن الصبیحی نے جمعہ کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ کونسل نے خود کو تحلیل کر لیا ہے۔ تحلیل کرنے کا یہ فیصلہ عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی کے عدن سے فرار ہونے کے بعد سامنے آیا ہے ۔

الزبیدی اپنے حامیوں اور "ہوم لینڈ شیلڈ" فورسز کے درمیان گزشتہ دسمبر سے شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد فرار ہوئے۔ یہ جھڑپیں الزبیدی کے وفادار دستوں کے حضرموت اور المہرہ پر قبضے کے بعد شروع ہوئی تھیں۔ تاہم قانونی فورسز بعد میں ان علاقوں کو واپس لینے میں کامیاب ہو گئیں اور عدن میں داخل ہو کر وہاں اور یمن کے دیگر شہروں میں امن و امان قائم کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں