جسمانی گھڑی کو متوازن رکھنا چھاتی کے سرطان کے خلاف مؤثر ثابت:نئی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایک حالیہ سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ سرطان صرف جسم پر ہی حملہ نہیں کرتا بلکہ ابتدائی مرحلے میں ہی دماغ کے توازن کو متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے، جس کے نتیجے میں نیند، ذہنی کیفیت اور حتیٰ کہ بیماری کے خلاف مدافعتی نظام کی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

جریدے Neuron میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق امریکا کی کولڈ اسپرنگ ہاربر لیبارٹری کے سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ چھاتی کا سرطان ٹیومر بننے کے چند ہی دنوں کے اندر دماغ کی حیاتیاتی گھڑی (باڈی کلاک) کو درہم برہم کر سکتا ہے۔اس بارے میں رپورٹ سائنسی ویب سائٹ ScienceDaily میں شائع ہوئی۔

تحقیق کے مطابق دماغ کی صحت ایک نہایت باریک اور منظم روزانہ کے حیاتیاتی ردھم پر منحصر ہوتی ہے، جو انسانوں میں کورٹی سول جیسے تناؤ کے ہارمونز کے اخراج کو منظم کرتا ہے۔ یہی ردھم نیند، ذہنی دباؤ کے ردِعمل اور مدافعتی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ تاہم چوہوں پر کیے گئے تجربات سے ظاہر ہوا کہ چھاتی کے سرطان کے ٹیومر اس قدرتی ردھم کو ہموار (دبا) دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں تناؤ کے ہارمونز کی سطح دن اور رات کے مطابق کم زیادہ ہونے کے بجائے تقریباً مستقل رہتی ہے۔

تحقیق کے سربراہ جیرمی بورنیغر (Jeremy Borniger)نے بتایا کہ یہ خلل بیماری کے زیادہ ترقی یافتہ مراحل میں نہیں ہوتا، بلکہ انتہائی ابتدائی مرحلے میں ظاہر ہوتا ہے، یہاں تک کہ جب ٹیومر کو ہاتھ سے محسوس بھی نہیں کیا جا سکتا۔

تجربات میں دیکھا گیا کہ صرف تین دنوں میں تناؤ کے ہارمونز میں شدید اتار چڑھاؤ کا نقصان ہو جاتا ہے، جب سرطان کو متحرک کیا گیا۔روزانہ کے حیاتیاتی ردھم (سرکیڈین ریتم) میں خلل طویل عرصے سے پریشانی اور بے خوابی جیسے مسائل سے منسلک رہا ہے، جو کہ سرطان کے مریضوں میں بھی عام علامات ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ خلل دماغ پٹویٹری گلینڈ ایڈرینل گلینڈ کے محور میں ہوتا ہے، جو جسم کی ذہنی دباؤ کے ردعمل کو کنٹرول کرتا ہے۔جب یہ محور متاثر ہوتا ہے تو دماغ صحیح وقت پر صحیح سگنل بھیجنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جس کے نتیجے میں نیند، مزاج اور زندگی کے معیار پر منفی اثر پڑتا ہے اور ممکنہ طور پر زندگی کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ محققین نے صرف خلل کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ اس کی اصلاح کی بھی کوشش کی۔ دماغ کے ہائپو تھلیمس (Hypothalamus)میں مخصوص اعصابی خلیات کو متحرک کر کے روزانہ کے معمول کے ردھم کو بحال کیا گیا، جس سے تناؤ کے ہارمونز اپنے قدرتی ردھم میں واپس آگئے۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس سے ٹیومر میں کینسر مخالف مدافعتی خلیات کا بہاؤ بڑھا، جس سے ٹیومر کا حجم نمایاں طور پر کم ہوا، وہ بھی بغیر کسی اینٹی کینسر دوا کے۔ تاہم محققین نے وضاحت کی کہ مثبت اثر صرف اسی وقت ہوا جب ردھم کو دن کے صحیح وقت پر بحال کیا گیا، جو دماغی کام میں وقت کے توازن کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

نئے علاج کے امکانات

محققین کے مطابق یہ نتائج سرطان کے علاج کے لیے نیا راستہ کھولتے ہیں، لیکن ٹیومر کو براہِ راست نشانہ بنانے کی بجائے، مریض کی جسمانی اور ذہنی حالت کو بہتر بنا کر علاج میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اعصابی اور ہارمونی توازن کو فروغ دینے کا موقع ملتا ہے۔

بورنیغر کے مطابق صرف جسم اور دماغ کی صحت کو بہتر بنانا ہی مدافعتی نظام کو مضبوط کر کے سرطان کے خلاف لڑنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے،اس کے علاوہ مستقبل میں یہ طریقہ روایتی علاج کے ضمنی اثرات کو بھی کم کر سکتا ہے۔

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرطان ابتدائی مراحل سے ہی دماغ پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور نفسیاتی اور نیند کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ ایک نئے علاج کاموقع بھی فراہم کرتا ہے، جو حیاتیاتی گھڑی (باڈی کلاک) کو دوبارہ متوازن کر کے مدافعتی نظام کو بیماری کے خلاف مؤثر بنانے پر مبنی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں