برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے ایک نیا ذہین آلہ تیار کیا ہے جسے ری وائس (Revoice)کہا جاتا ہے، جو فالج کے مریضوں میں بولنے کی خرابیوں کے علاج میں نمایاں تبدیلی لا سکتا ہے۔ یہ آلہ مریضوں کو قدرتی اور رواں انداز میں بات چیت کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے، وہ بھی دماغ میں چِپس لگائے یا کسی جراحی مداخلت کے بغیر۔
یہ بات ایک حالیہ تحقیق میں سامنے آئی ہے جو Nature Communications جریدے میں شائع ہوئی۔یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب تقریباً نصف فالج کے مریض کسی نہ کسی قسم کی تقریری خرابی کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سب سے عام عُسرِ تلفّظ (Dysarthria) ہے۔ یہ کیفیت چہرے، منہ اور آواز کی ڈوریوں کے عضلات کی کمزوری کے باعث پیدا ہوتی ہے، جس میں مریض اپنی بات سمجھتے ہوئے بھی واضح طور پر بولنے سے قاصر رہتا ہے۔
صارف ''ری وائس '' آلہ ایک ہلکے اور لچکدار طوق کی صورت میں گردن کے گرد پہنتا ہے۔ یہ آلہ دھونے کے قابل ہے اور روزمرہ استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں موجود انتہائی حساس سینسرز گلے کے عضلات میں پیدا ہونے والی نہایت باریک ارتعاشات کو محسوس کرتے ہیں، ساتھ ہی دل کی دھڑکن کی رفتار بھی ناپتے ہیں، جس کے ذریعے بولنے اور جذبات سے جڑی جسمانی علامات کو سمجھا جاتا ہے۔
ان اشاروں کو دوہرے مصنوعی ذہانت کے نظام کے ذریعے پراسیس کیا جاتا ہے۔ پہلا نظام خاموش منہ کی حرکات سے الفاظ کو دوبارہ تشکیل دیتا ہے، جبکہ دوسرا نظام جذباتی کیفیت اور اردگرد کے تناظر جیسے وقت یا عمومی حالات کی تشریح کرتا ہے، تاکہ مختصر فقروں کو حقیقی وقت میں مکمل اور بامعنی جملوں میں تبدیل کیا جا سکے۔
ایک محدود کلینیکل آزمائش کے دوران جس میں فالج کے بعد عُسرِ تلفّظ کے شکار پانچ مریض اور دس صحت مند رضاکار شامل تھے، اس آلے نے الفاظ کی سطح پر 4اعشاریہ2 فیصد اور جملوں کی سطح پر 2اعشاریہ9 فیصد کی کم غلطی کی شرح حاصل کی۔
اس کے علاوہ شرکاء نے بتایا کہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں ان کی ابلاغی صلاحیت پر اطمینان میں 55 فیصد اضافہ ہوا۔یہ آلہ موجودہ ٹیکنالوجیز سے مختلف ہے، جو عموماً آہستہ آہستہ حروف جوڑنے، آنکھوں کی حرکت پر نظر رکھنے یا دماغ میں الیکٹروڈ لگانے پر انحصار کرتی ہیں۔
اس کے برعکس یہ ڈیوائس صرف چند خاموش ادا کیے گئے الفاظ کی بنیاد پر فوری اور قدرتی ابلاغ فراہم کرتی ہے۔کیمبرج یونیورسٹی کے شعبۂ انجینئرنگ میں تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر لُوئیجی اوکّیپینتی نے کہا کہ عُسرِ تلفّظ کے مریض بالکل جانتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں، لیکن فالج کے بعد دماغ اور حنجرے کے درمیان اشارے متاثر ہو جاتے ہیں، جس سے انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس آلے کا مقصد مریض کو خودمختاری اور وقار واپس دلانا ہے، کیونکہ ابلاغ صحت یابی کے عمل کا ایک بنیادی حصہ ہے۔
مستقبل کے اقداما ت
محققین اس سال کے دوران کیمبرج میں ایک وسیع تر کلینیکل مطالعہ شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جس کا مقصد ان مریضوں میں اس آلے کی مؤثریت کا جائزہ لینا ہے جن کی مادری زبان انگریزی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں کثیر لسانی اور زیادہ وسیع جذباتی اظہار کی صلاحیت رکھنے والے ورژنز تیار کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
ٹیم کا خیال ہے کہ Revoice ٹیکنالوجی مستقبل میں پارکنسنز کے مریضوں اور موٹر نیورون بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، جس سے یہ نیورو ری ہیبیلیٹیشن کے شعبے میں سب سے زیادہ امید افزا اختراعات میں سے ایک بن جاتی ہے۔
-
زیادہ پروٹین والی غذا ہڈیوں کے لیے کیا نتائج رکھتی ہے؟
پروٹین ہڈیوں کی صحت کو برقرار رکھنے میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے، لیکن اس کا ...
ایڈیٹر کی پسند -
سائنسدانوں نے دمے کے حملوں کی پیش گوئی پانچ سال قبل کرنے کا نیا طریقہ دریافت کر لیا
محققین نے ایک نیا سائنسی طریقہ کار دریافت کیا ہے، جو دمے کے مریضوں کی دیکھ بھال ...
بين الاقوامى -
"مونارک تتلی"... نازک مخلوق جو ہزاروں میل ہجرت کر کے جنوبی سعودی عرب میں ڈیرہ ڈالتی ہے
مونارک تتلی (Danaus plexippus) دنیا کی معروف ترین تتلیوں میں سے ایک ہے۔ یہ اپنے ...
مشرق وسطی