ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کو حکومت میں شامل نہ کریں: امریکہ کا عراقی رہنمائوں کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکہ نے عراق کے سینیئر سیاستدانوں کے ذریعے دھمکی دی ہے اگر عراق نے ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کو نئی بننے والی حکومت میں شامل کیا تو عراق پر پابندیاں لگادی جائیں گی۔ نیز فیڈرل ریزرو بنک آف نیویارک سے لی گئی رقم کی بنیاد پر تیل سے ریونیو کے حصول پر بھی اثر پڑے گا۔ یہ بات چار مختلف ذرائع نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتائی گئی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف اقدامات کی جاری مہم کے دوران عراق کے لیے یہ امریکی دھمکی اب تک کی سب سے اہم دھمکی ہے۔ امریکہ ایران کے حامی گروپوں کو کچلنے کے لیے کوشاں ہے۔ یہ گروپ عراق میں بھی موجود ہیں۔

عراق نے کئی سال تک امریکہ اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے سخت تنے ہوئے رسے پر چلنے جیسے عمل سے اپنے اپ کو گذارا ہے۔ اس دوران عراق نے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات رکھے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ نے عراق سے اپنے فوجی اڈہ خالی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مگر شام میں قید داعش کے جنگجووں کو اب شام سے نکال کر عراق منتقل کرنا شروع کیا ہے۔ اب تک لگ بھگ دو سو داعشی جنگجو عراق پہنچائے گئے ہیں ۔ جبکہ بڑی تعداد کی شام سے عراق میں منتقلی ابھی ہونا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق کو یہ امریکی دھمکی پچھلے دوماہ کے دوران متعدد بار دی گئی ہے۔ دھمکی عراق میں امریکی ناظم الامور کے ذریعے دی گئی جنہوں نے کئی شیعہ رہنماوں کو بھی ملاقاتوں کے دوران یہ انتباہ کیا ہے۔

اس امریکی دھمکی کے بارے میں بعض گروپوں کے رہنماؤں کے علاوہ معاملے سے جڑے عراقی حکام نے بھی ' روئٹرز' کو بتایا ہے۔ تاہم امریکی سفارت خانے کی درخواست کے باوجود اس بارے تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ذرائع نے اپنی شناخت ظاہرنہ کرنے جی شرط پر بتایا اس طرح کے پیغامات امریکیوں کی جانب سے پچھلے ایک سال سے دیے جارہے ہیں۔یہ سلسلہ صدر ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ آنے سے جاری ہے۔

دوسری جانب ایران بد ترین امریکی۔کمپنیوں کے باعث عراق اور اس کے بنکوں کو اپنے لیے بہت اہم سمجھتا ہے ۔کیونکہ امریکی پابندیوں کے اثرات قدرے کم کرنے میں ایران کے لیے عراق مفید ہو سکتا ہے۔

امریکی حکومتوں نے ایران کی انہی ضرورتوں کے پیش نظر عراق کے لیے ڈالروں کی ترسیل کو روکنے کی کوششیں کی ہیں۔ اس سلسلے میں کئی عراقی بنکوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا یے۔ البتہ امریکہ نے فیڈرل ریزرو بنک نیو یارک کے ذریعے تیل کی فروخت سے ہونے والی عراقی آمدنی کو اب تک نہیں روکا ہے۔ خیال رہے عراق تیل پیدا کرنے والے اہم ملکوں میں شامل ہے اور اوپیک کا بھی رکن ہے۔

امریکہ نے اس کے تیل کے وسائل کو صدام دور کے خاتمے بعد عملآ اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔ جیسا کہ ان دنوں وینز ویلا کے لیے امریکی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے اور نہیں معلوم کہ اگلی باری کس تیل پیدا کرنے والے ملک کی ہو گی۔ امریکہ اپنے توانائی کی ضروریات اور مفادات کی تکمیل کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

امریکی دھمکیوں کی اطلاعات پر عراقی وزیر اعظم شیعہ السوڈامی کے دفتر نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا بھی جواب نہیں دیا ہے۔ اسی طرح عراق میں ایرانی مشن نے بھی صورت حال کے بارے میں تبصرہ نہیں کیا ہے۔

البتہ امریکہ کا کہنا کہ وہ عراق کی خود مختاری کی حمایت کرتا ہے اور علاقے کے ہر ملک کی خود مختاری کی حمایت کرتا ہے۔

اس صورت حال میں کسی بھی ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپ کے لیے عراقی حکومت میں کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ۔ جو دہشت گردی کرتے ہیں اور فرقہ واریت پھیلا کر مسلمانوں کو تقسیم کرکے کمزور کرتے ہیں۔ امریکہ ایسے گروپوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔
تاہم امریکی دفتر خارجہ نے اس بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے اور عراق کو پابندیوں کی دھمکیاں ملنے پر بھی کوئی تبصرہ کرنا بھی پسند نہیں کیا ہے۔

جن شیعہ رہنماوں کو امریکہ نے انتباہ کیا ان میں عراقی وزیر اعظم شیعہ السوڈامی بھی شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں عمار حکیم ، ہادی العامری اور کرد لیڈر مسرور بارازانی بھی شامل ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ جس نے جون 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔ ایک بار پھر ایران کو اسی طرح کے حملے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ اب ایران کے علاوہ عراق بھی دھمکیوں کی زد میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں