یورپ داعش کے قیدی اپنے شہریوں کو واپس لے: عراقی وزیر اعظم کا مطالبہ

یورپی یونین نے داعش کے غیر ملکی جنگجوؤں کے فرار کی رپورٹوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

عراق کی نگران حکومت کے وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے دنیا کے ممالک بالخصوص یورپی یونین کے ممالکسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام سے عراق منتقل کیے گئے داعش کے قیدی اپنے شہریوں کو واپس لیں۔

شیاع السوڈانی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے ممالک، خاص طور پر یورپی یونین، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اپنی شہریت رکھنے والے ان عناصر کو واپس لے کر ان کے خلاف مقدمات اور منصفانہ سزا کو یقینی بنائیں۔ عراق نے جمعرات کو تصدیق کی تھی کہ وہ ان قیدیوں کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز کرے گا۔

یورپی تشویش

یورپی یونین نے کہا کہ شام میں قید داعش کے غیر ملکی جنگجوؤں کے فرار ہونے کی رپورٹیں "انتہائی تشویشناک" ہیں ۔ وہ قیدیوں کی عراق منتقلی کے عمل کی نگرانی کر رہی ہے۔ یورپی یونین کے ترجمان انور العنونی نے اس بات کی تصدیق کی کہ جھڑپوں کے دوران داعش کے قیدیوں کے حالیہ ممکنہ فرار کے واقعات شدید تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے ’’ العربیہ انگلش ‘‘ کو بتایا کہ عراق کے لیے داعش قیدیوں کی منتقلی کے لیے دمشق اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان جنگ بندی کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ ذرائع نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے سرکاری افواج اور ایس ڈی ایف کے درمیان جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے شام کا دورہ کیا ہے۔

یورپی شہری خطرناک

عراق کے دو سیکورٹی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شام سے منتقل کیے جانے والے داعش قیدیوں کی پہلی کھیپ، جو بغداد کے حوالے کی گئی ہے، اس میں ایسے یورپی شہری شامل ہیں جو اس شدت پسند تنظیم کے ممتاز کمانڈر رہ چکے ہیں۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ بدھ کو عراق کے حوالے کیے گئے پہلے گروپ میں داعش کے قائدین اور مختلف شہریتوں کے حامل بدترین مجرم شامل ہیں، جن میں یورپی، ایشیائی، عرب اور عراقی شامل ہیں۔

دوسرے عہدیدار نے بتایا کہ اس گروپ میں 85 عراقی اور 65 غیر ملکی شامل ہیں جن میں یورپی، سوڈانی، صومالی اور قفقاز کے ممالک کے باشندے شامل ہیں، ان سب نے عراق میں داعش کی کارروائیوں میں حصہ لیا اور یہ سب تنظیم کے امراء کی سطح کے لوگ ہیں۔ جمعرات کو عراقی حکام نے واضح کیا کہ داعش کے قیدیوں کو شمال مشرقی شام سے عراق کے حراستی مراکز منتقل کرنے کا فیصلہ بغداد کے حکام کی درخواست پر کیا گیا جس کا امریکہ کی قیادت میں اتحاد اور شام کی حکومت نے خیرمقدم کیا ہے۔

امریکی اور عراقی حکام نے عراقی درخواست کے بارے میں اس وقت بات کی جب ایک دن قبل امریکی فوج نے شمال مشرقی شام میں کردوں کی قیادت والی ایس ڈی ایف کے زیرِ انتظام 12 سے زائد حراستی مراکز سے داعش کے تقریباً 9000 قیدیوں کی منتقلی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ قیدیوں کی منتقلی اس وقت شروع ہوئی جب شامی سرکاری افواج نے ’’ الھول ‘‘ کیمپ کا کنٹرول حاصل کر لیا جس میں ہزاروں افراد، زیادہ تر خواتین اور بچے مقیم تھے اور جہاں سے ایس ڈی ایف جنگ بندی کے تحت پیچھے ہٹ گئی تھی۔

شامی میڈیا کے مطابق شامی افواج نے گزشتہ پیر کو شمال مشرقی قصبے الشدادی میں ایک جیل پر بھی قبضہ کر لیا تھا جہاں سے داعش کے کچھ قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے جن میں سے کئی کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایس ڈی ایف نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ سرکاری افواج نے شمالی شہر رقہ کے قریب الاقطان جیل پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کی جہاں داعش کے کچھ قیدی موجود ہیں اور ساتھ ہی ٹینکوں اور جنگجوؤں کے ذریعے جیل کا محاصرہ کر لیا۔

جیسے جیسے شامی افواج عراق کی سرحد کے ساتھ شمال مشرقی شام میں پیش قدمی کر رہی تھیں بغداد میں یہ خدشہ پایا جاتا تھا کہ اگر افراتفری کے دوران کچھ قیدی حراستی مراکز سے فرار ہو گئے تو وہ عراق کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ایک عراقی سکیورٹی اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ قیدیوں کو شام سے عراق منتقل کرنے کا فیصلہ عراق کا اپنا تھا جس کا امریکی اتحاد اور شامی حکومت نے خیرمقدم کیا ہے۔

اہلکار نے مزید کہا کہ انہیں شام میں چھوڑنے کے بجائے عراق کی جیلوں میں رکھنا عراق کے سیکورٹی مفاد میں ہے۔ ایک اعلیٰ امریکی فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ عراق نے امریکی مداخلت کے بغیر شام سے داعش کے قیدیوں کی واپسی کی درخواست کی تھی۔ شامی وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ داعش کے قیدیوں کو شام سے عراق منتقل کرنے کا منصوبہ حالیہ جھڑپوں سے کئی ماہ قبل ہی زیرِ بحث تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں