شام نے کرد اکثریتی شہر کے لیے امدادی راہداری کھول دی

امداد کے داخلے کے لیے صوبہ حسکہ میں بھی راہداری کھولنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کی فوج نے اتوار کے روز کہا کہ اس نے کرد اکثریتی قصبے کوبانی کے لیے ایک انسانی راہداری کھول دی جہاں بڑی تعداد میں بے گھر لوگ موجود ہیں اور اقوامِ متحدہ کا ایک قافلہ جان بچانے والی امداد لے کر وہاں پہنچ گیا۔

وزارتِ دفاع نے شامی عرب فوج کی کارروائیوں کے تمام محاذوں پر جنگ بندی میں 15 دن کی توسیع کا اعلان کیا جو 24 جنوری کو رات 11 بجے سے نافذ العمل ہوئی۔ اقوامِ متحدہ کی مذکورہ امداد اسی دوران پہنچی۔

وزارت نے کہا کہ جنگ بندی میں توسیع اس امریکی کارروائی میں معاونت کے لیے کی گئی ہے جو شام کی جیلوں سے داعش کے قیدیوں کو عراق منتقل کرنے کے لیے ہے۔

شامی عرب فوج کی آپریشنز کمان نے خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی جاری رکھنے پر ایس ڈی ایف اور پی کے کے ملیشیا کو خبردار کیا ہے۔

فوج نے کوبانی اور قریبی صوبہ حسکہ میں دو انسانی راہداریاں کھولنے کا بھی اعلان کیا تاکہ "امداد کا داخلے" ممکن ہو سکے۔

شام میں اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کے نمائندے گونزالو ورگاس لوسا نے ایکس پر لکھا، "شامی حکومت سے تعاون کا شکریہ۔ جنگ سے متأثرہ شہریوں کے لیے ضروری خوراک، امدادی اشیاء اور ڈیزل لے کر 24 ٹرکوں کا ایک قافلہ" کوبانی کے لیے روانہ ہوا۔"

سیریئن ڈیموکریٹک فورسز اپنے آپ کو شمال مشرق میں کرد اکثریتی علاقوں اور شمال میں کوبانی تک محدود پاتی ہیں۔

کوبانی شہر جسے کرد افواج نے 2015 میں داعش کے ایک طویل محاصرے سے آزاد کرایا تھا، دہشت گردوں کے خلاف ان کی اولین بڑی فتح کی علامت بن گیا۔

شام کی پیٹرولیم کمپنی نے کہا کہ اس نے مشرقی صوبہ حسکہ کے جبسۃ آئل فیلڈ سے بنی یاس ریفائنری تک خام تیل کی ترسیل شروع کردی ہے جو شام کے بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ہے۔

دیر الزور سے خام تیل کی پہلی ترسیل بنی یاس میں تیل کی ذخیرہ گاہوں تک پہنچی جس کے بعد یہ اقدام کیا گیا ہے۔ یہاں اسے پروسیس کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں