غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح راہداری سے پیدل راہگیروں کی آمد و رفت پیر کو شروع ہو رہی ہے جبکہ اسرائیلی افواج کے فلسطینی علاقے پر قبضے کے بعد سے یہ تقریباً دو سال سے بند تھی۔
مصر میں رفح راہداری جسے اکثر غزہ کی "بقا کا ذریعہ" کہا جاتا ہے - اس علاقے کے لیے واحد سرحدی راستہ ہے جو اسرائیل سے نہیں گذرتا۔
اقوامِ متحدہ اور امدادی گروپوں کے مطالبے پر راہداری کی دوبارہ کشادگی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے دوسرے مرحلے کا ایک کلیدی حصہ ہے۔
اس اہم راہداری کے بارے میں معلومات پر اے ایف پی کا ایک جائزہ پیشِ خدمت ہے:
- رسد کا اہم ذریعہ -
اسرائیلی وزارتِ دفاع کے تحت فلسطینی شہری امور کی رابطہ کاری کرنے والے ادارے کوگاٹ نے کہا ہے کہ یہ صرف "دونوں اطراف کے رہائشیوں" کے لیے کھلے گی۔
اے ایف پی کی تصاویر میں سرحد کے مصری جانب ایمبولینسوں کی قطار دکھائی گئی ہے جو طبی انخلاء کرنے والوں کو وصول کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ توقع ہے کہ وہ اولین گروپ ہوں گے جنہیں باہر جانے کی اجازت ملی ہے۔
ایک طویل عرصے تک یہ راہداری غزہ سے آنے والے فلسطینیوں کے لیے انخلاء کا اہم مقام تھی جنہیں 2007 سے اسرائیلی ناکہ بندی کے تحت محصور پٹی سے نکلنے کی اجازت ہوتی تھی۔
یہ راہداری 2005 سے 2007 تک فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت پہلا فلسطینی سرحدی ٹرمینل تھی اور حماس کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد غزہ کی پٹی پر اس کے کنٹرول کی علامت بن گئی۔
- اسرائیلی کنٹرول میں -
سات مئی 2024 کو اسرائیلی فوج نے فلسطینی علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور دعویٰ کیا کہ راہداری "دہشت گردانہ مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔"
اس کے بعد سے رسائی کے کئی مقامات زیادہ تر بند کر دیے گئے ہیں جن میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ استعمال مقامات بھی شامل ہیں۔
گذشتہ سال جنوری میں اسرائیل اور حماس کے درمیان مختصر جنگ بندی کے دوران رفح کو طبی انخلاء کے لیے مختصر طور پر دوبارہ کھولا گیا تھا۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ سے آمد و رفت کرنے کے لیے مجاز "افراد کی سکیورٹی کلیئرنس" کرے گا جس کا انتظام 15 رکنی فلسطینی ٹیکنوکریٹک باڈی کے ذریعے ہونا ہے۔
غزہ انتظامیہ کی قومی کمیٹی بھی اسرائیل کی منظوری کے بعد علاقے میں داخل ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔
قاہرہ میں فلسطینی سفارت خانے کے مطابق غزہ واپسی کا ارادہ رکھنے والے فلسطینیوں کو صرف محدود سامان اور محدود مقدار میں ادویات لانے کی اجازت ہو گی۔
- یورپی یونین-فلسطینی مشن -
توقع ہے کہ راہداری کے فلسطینی حصے کا انتظام یورپی یونین بارڈر اسسٹنس مشن (ای یو بام) اور فلسطینی اتھارٹی کا ایک وفد مل کر کریں گے۔
یورپی یونین نے 2005 میں رفح راہداری کی نگرانی میں مدد کے لیے ایک سویلین مشن قائم کیا تھا لیکن دو سال بعد جب حماس نے غزہ کا کنٹرول سنبھالا تو اسے معطل کر دیا گیا۔
یورپی مشن کا مقصد کلیدی راہداری پر غیر جانبدار، فریقِ ثالث کی موجودگی فراہم کرنا ہے اور اس میں اٹلی، سپین اور فرانس کی پولیس شامل ہے۔ اسے گذشتہ سال جنوری میں مختصر طور پر دوبارہ تعینات کیا گیا تھا لیکن مارچ میں معطل کر دیا گیا۔
سرحد پر موجود ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ای یو بام اور فلسطینی اتھارٹی کا وفد دونوں راہداری پر پہنچ چکے ہیں۔
- امداد کا داخلہ -
ٹرمپ امن منصوبے میں رفح راہداری کی دوبارہ کشادگی اور روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کے داخلے کی شرط ہے۔
لیکن اسرائیلی حکام اس معاملے پر رک گئے ہیں اور امدادی گروپوں کے مطابق جان بچانے والی امداد ناکافی ہے۔
بین الاقوامی امداد عموماً مصر سے رفح چوکی کے ذریعے اور پھر قریبی اسرائیلی راہداری کریم شالوم تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس وقت غزہ میں داخل ہونے والی تین چوتھائی امداد پر کارروائی یہیں کی جاتی ہے۔
غزہ میں داخل ہونے کے مجاز ڈرائیور اپنی گاڑیوں سے اتر جاتے ہیں اور پھر گاڑیوں سے سامان اتارنے اور دوسری گاڑیوں پر دوبارہ لادنے سے پہلے سخت اسرائیلی معائنہ کیا جاتا ہے۔
مصر کی جانب سے دو امدادی ذرائع نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیل امداد کی ترسیل میں مسلسل رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے اور سامان اتارے بغیر ہی "درجنوں" ٹرکوں کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔
رسد کے دیگر مقامات پر ماضی میں کام ہوا ہے لیکن اسرائیلی حکام نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی کہ آیا وہ دوبارہ کھلیں گے۔