امریکہ اور ایران کی سخت کشیدگی اور جنگ کے خطرات کے درمیان ابتدائی مذاکرات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس سلسلے میں صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ترکیہ کے دارالحکومت استنبول میں ملاقات کریں گے۔ امریکی حکام نے پیر کے روز بتایا ہے کہ یہ ملاقات جمعہ کے روز متوقع ہے۔
امریکہ کے حکام نے اس پیش رفت کے سلسلے میں کہا صدر ٹرمپ نے ایران کو جنگ سے بچنے کے لیے امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے کہا تھا ۔ اب یہ دوطرفہ ملاقات طے پاگئی ہے۔
دوسری جانب ایران کے ایک سینیئر عہدے دار نے بھی 'روئٹرز' کو بتایا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کے روز استنبول میں وٹکوف سے ملیں گے۔
بتایا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں خطے سے تعلق رکھنے والے بعض ملکوں کی شرکت متوقع ہے۔'روئٹرز' نے یہ بات علاقے کے ایک سینیئر سفارتکار کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔ پچھلے کئی ہفتوں سے امریکہ و ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران یہ پہلا باضابطہ دو طرفہ رابطہ ہوگا۔
امریکہ نے ایران میں مظاہروں کو تشدد سے کچلنے کا بہانہ بنا کر علاقے میں اپنی بھاری جنگی قوت منتقل کر رکھی ہے اور صدر ٹرمپ ایران کو کئی بار جون 2025 سے زیادہ تباہی کی دھمکی دے چکے ہیں۔ دوسری جانب ایران میں ہونے والے حالیہ ہنگاموں کو 1979 کے بعد بد ترین ہنگامے قرار دیا جارہا ہے ۔ جن کی وجہ سے ایرانی حکومت ہل کر رہ گئی ہے۔
اس بڑھے ہوئے جنگی خطرے میں اگرچہ دونوں ملک بظاہر جنگ کی بھر پور تیاری کے ساتھ ایک دوسرے کو دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں تاہم دونوں طرف سے بات چیت کی خواہش بھی بیان کی جاتی ہے۔ پچھلے ہفتے سے ایران حکام اس سلسلے میں تیاریوں کا تاثر بھی دیتے رہے ہیں۔
ایرانی حکام نے پچھلے ہفتے 'روئٹرز ' کو بتایا تھا کہ امریکی صدر بات چیت کے لیے پہلے سے تین نکات پیش کر رہے۔ اول یہ کہ ایران یورینیم افزودگی کو صفر کردے۔ دوسری یہ بات تسلیم کرے کہ وہ اپنے بیلیسٹک میزائلوں کا پروگرام جاری نہیں رکھے گا۔ نیز یہ کہ ایران سے باہر اپنی مسلح پراکسیز کو مدد ختم کردے گا۔
واضح رہے ایران اس سے قبل ان تینوں مطالبات پر عمل سے انکاری رہا ہے۔ ایران کا موقف رہا ہے کہ وہ اپنی خود مختاری کے معاملات پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ تاہم اب ایرانی حکمران بیلیسٹک میزائل پروگرام کو زیادہ بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ادھر امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے علاوہ اسرائیلی فوجی حکام سے بھی ملاقات کے لیے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پچھلے ماہ کے دوسرے وسط میں بھی وہ اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں۔