ایران کا امریکی وفد پر اعتراض... اور تہران کی جانب سے پیش کی جانے والی ممکنہ تجاویز

ایرانی اہل کار کے مطابق "سینٹکوم" کمانڈر کی موجودگی جوہری بات چیت کے لیے خطرہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عمان کے دار الحکومت مسقط میں آج ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو گیا۔

امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے ایک امریکی اہل کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس وفد میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکوم) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر بھی شامل ہیں۔ اگرچہ اعلیٰ سطح کے سفارتی مذاکرات میں وزارتِ دفاع کے حکام کی شرکت غیر معمولی ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی اپنی مدتِ صدارت کے دوران مذاکرات میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو بھیج چکے ہیں۔

روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک ایرانی اہل کار نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکوم) کے کمانڈر کی موجودگی کو جوہری مذاکرات کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
امریکہ تہران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی روکے، اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرے اور اپنے علاقائی حلیفوں کی حمایت ختم کرے، جبکہ ایران نے صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔

اسی تناظر میں تین ایرانی حکام نے "نیویارک ٹائمز" کو بتایا ہے کہ تہران امریکی پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو طویل مدت کے لیے معطل کرنے کی پیشکش کر سکتا ہے۔ علاقائی ذرائع نے اخبار کو یہ بھی بتایا کہ ایک درمیانی حل کے طور پر ایران کی یورینیم افزودگی کو 3% یا اس سے کم تک محدود کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔ علاقائی ممالک جوہری معاملے کے علاوہ امریکہ کے دیگر مطالبات پر آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مذاکرات کے آغاز سے قبل عباس عراقچی نے کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کے خلاف ملک کی خود مختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مکمل آمادگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ساتھ ہی ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کے استعمال کے ایرانی موقف کا ذکر کیا اور عمانی کوششوں کو سراہا۔\

دوسری جانب عمانی وزیر خارجہ نے سفارتی کوششوں میں ایران کی نیک نیتی اور سنجیدگی کی تعریف کی اور تہران و واشنگٹن کے درمیان پائیدار مفاہمت کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔

ادھر ایرانی پاسداران انقلاب کے سیاسی نائب کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ید اللہ جوانی نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری معاملے تک محدود رہیں گے اور ایران کی دفاعی و مزاحمتی صلاحیتیں ناقابلِ مذاکرات ہیں۔ "مہر" نیوز ایجنسی کے مطابق جوانی نے کہا کہ "خرم شہر 4" میزائل کی رونمائی ایک واضح پیغام ہے کہ تہران اپنی طاقت کے عناصر کو برقرار رکھنے پر کاربند ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں