ایک ہفتہ قبل مصر سے متصل رفح راہداری کی دوبارہ کشادگی کے بعد سے علاقے کے حکام کے مطابق تقریباً 180 فلسطینی غزہ کی پٹی سے روانہ ہو گئے ہیں۔
فلسطینی علاقے میں حماس کے زیرِ انتظام میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ کے مطابق پیر اور جمعرات کے درمیان 135 افراد براستہ راہداری غزہ سے مصر پہنچے جن میں زیادہ تر مریض اور ان کے لواحقین تھے۔
"رفح راہداری پر دو تا پانچ فروری نقل و حرکت کے سرکاری اعداد و شمار سے سفر پر سخت پابندی ظاہر ہوتی ہے،" ثوابتہ نے کہا۔
انہوں نے کہا کہ راہداری جمعہ اور ہفتہ کو بھی بند تھی۔
فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی نے تصدیق کی ہے کہ دو اور پانچ فروری کے درمیان غزہ کے 135 شہری راہداری سے روانہ ہوئے تھے۔
علاقے کے مرکزی الشفاء ہسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو مزید 44 افراد غزہ کی پٹی سے راہداری کے ذریعے مصر چلے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان میں 19 مریض شامل تھے جبکہ باقی ان کے لواحقین تھے۔
مصری جانب سرحد کے ایک ذریعے نے اتوار کو راہداری سے گذرنے والے مسافروں کے اعداد و شمار کی تصدیق کی۔
اس سے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے افراد کی کل تعداد 179 ہو گئی۔
رجاء ابو الجدیان نے اے ایف پی کو بتایا، "میرا بیٹا جنگ کے دوران زخمی ہو گیا تھا اور ڈیڑھ سال کے لیے اس کی ٹانگ میں دھاتی پلیٹ لگائی گئی تھی۔" وہ اتوار کو راہداری سے نکلنے کی تیاری کر رہی تھیں۔
"انہوں نے ہمیں بتایا کہ مزید نقصان سے بچنے کے لیے پلیٹ کو نکالنا ہو گا۔"
راہداری کے ذریعے مخالف سمت میں بھی سفر ہو رہا ہے اور اسی عرصے کے دوران درجنوں افراد غزہ واپس لوٹے ہیں۔
ثوابتہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ راہداری کی دوبارہ کشادگی کے بعد سے 88 افراد مصر سے غزہ کی پٹی میں داخل ہوئے جو اکثر روتے ہوئے اپنے اہلِ خانہ سے ملتے ہیں۔
مبینہ طور پر امریکی دباؤ کے بعد اسرائیل نے پیر کے روز راہداری دوبارہ کھولنے کی اجازت دی تھی لیکن اب تک اسے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کے لیے محدود کر رکھا ہے۔
اقوامِ متحدہ اور امدادی تنظیمیں طویل عرصے سے رفح راہداری کھولنے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کا ایک اہم عنصر ہے جہاں انسانی حالات ابتر ہیں۔
ہزاروں بیمار اور زخمی فلسطینیوں کو راہداری کی دوبارہ کشادگی سے مصر یا کسی اور جگہ طبی علاج کروانے کا ایک نادر موقع مل گیا ہے۔
غزہ میں تقریباً 20,000 مریضوں کو فوری طور پر علاج کی ضرورت ہے جن میں 4,500 بچے بھی شامل ہیں، ابو سلمیہ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا۔