حزب اللہ کی سرنگوں کا خاتمہ لبنان کے استحکام کے لیے اہم قدم ہے:سینٹ کام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے لبنانی فوج کی جانب سے گذشتہ دو ماہ کے دوران دوسری بار حزب اللہ کی زیر زمین سرنگ دریافت کرنے پر لبنانی فوج کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کمان کے سرکاری اکاؤنٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ غیر سرکاری عناصر کی جانب سے گولہ بارود، میزائل اور خودکش ڈرون طیارے ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی سرنگوں کو ختم کرنا لبنان اور پورے خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔

کوپر نے مزید کہا کہ یہ کامیابی لبنانی فوج کے پیشہ ورانہ کام کی عکاس ہے۔ انہوں نے امریکہ کی قیادت میں کام کرنے والی اس مکینیکل ٹیم کے کردار کی بھی تعریف کی جو اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے وعدوں پر عمل درآمد میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ کوششیں سکیورٹی خطرات کو کم کرنے اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔

ہتھیاروں کی ضبطگی اور حکومتی عزم

رواں ماہ کے آغاز میں لبنان کے نائب وزیراعظم طارق متری نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ لبنانی فوج دریائے لیطانی کے شمالی حصوں میں بھی اسلحہ قبضے میں لینے کا کام مکمل کرے گی جیسا کہ اس نے جنوبی حصوں میں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی سربراہ روڈلف ہیکل امریکہ کے دورے سے واپسی پر کابینہ کو دریائے لیطانی اور دریائے اولی کے درمیان اسلحہ قبضے میں لینے کے دوسرے مرحلے کا منصوبہ پیش کریں گے۔

طارق متری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ حزب اللہ لیطانی کے شمال میں اسلحہ حوالے کرنے سے انکار کر رہی ہے جو فوج کے لیے ایک رکاوٹ ہے، تاہم اس کے باوجود ریاست پورے ملک میں اسلحہ صرف اپنے کنٹرول میں رکھنے کے فیصلے پر قائم ہے اور اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جنگ اور امن کا فیصلہ صرف حکومت کے ہاتھ میں ہے اور حکومت ملک کو کسی بھی علاقائی جنگ میں دھکیلنے یا اسے دوسروں کی جنگ کا میدان بنانے کی مخالف ہے۔ یاد رہے کہ لبنانی حکومت نے جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی اور ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر موجود اسلحہ جمع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ فوج اب تک دریائے لیطانی کے جنوب میں یہ کام مکمل کر چکی ہے اور اب لیطانی کے شمالی علاقے میں اس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں