ایران : ٹی وی نشریات میں 'مرگ بر خامنہ ای' کہنے پر ٹی وی ڈائریکٹر برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی حکام نے صوبائی ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر کو برطرف کر دیا ہے۔ برطرفی کی وجہ ٹی وی رپورٹر کی طرف سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کا مطالبہ کرنا بنی ہے۔

یہ واقعہ جنوب مشرقی صوبی سیستان میں اسلامی انقلاب کی 64ویں سالگرہ کی براہ راست ٹی وی نشریات کے دوران پیش آیا ہے۔

بدھ کے روز ہونے والی ریلی کے شرکاء 'اللہ اکبر ، اللہ عظیم' کے نعرے لگا رہے تھے۔ ٹی وی رپورٹر مصعب ریلی کی کوریج کر رہا تھا کہ اسی دوران 'مرگ بر خامنہ ای' کا نعرہ براہ راست نشریات کے ذریعے ٹی وی پر نشر ہوگیا۔

خیال رہے ایرانی مظاہروں اور ریلیوں میں 'مرگ بر امریکہ' اور 'مرگ بر اسرائیل' کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق صوبائی ٹی وی چینل کے براڈ کاسٹ ڈائریکٹر کو برطرف جبکہ ٹرانسمیشن آپریٹر اور براڈ کاسٹ سپروائزر کو ان خبروں کے بعد معطل کر دیا گیا ہے۔ نیز باقی عملے کو تادیبی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ پیشہ ورانہ نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی ساکھ کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔

رپورٹر مصعب کی سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ زبان کے پھسلنے کی غلطی پر معافی کا طلبگار ہے۔

ایران میں ہونے والی یہ ریلیاں ایرانی رجیم کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے ایک ہفتے بعد ہوئی ہیں۔

یاد رہے 28 دسمبر کو ایران میں بعض تاجروں اور دکانداروں نے ایرانی معیشت کی تباہ حالی، کرنسی کی قدر کے انتہائی نیچے گر جانے اور افراط زر و مہنگائی میں غیر معمولی اضافے کے بعد احتجاج شروع کیا تھا جو بعد ازاں بین الاقوامی سطح پر مدد کی آوازوں کے باعث حکومت مخالف احتجاج میں تبدیل ہوگیا۔

ایرانی حکام کی طرف سے اب تک ہلاکتوں کی جس تعداد کی تصدیق کی گئی ہے وہ 3117 ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان میں سیکیورٹی اہلکار اور راہگیر بھی شامل ہیں۔ امریکہ میں قائم این جی او ہرانا کے مطابق اب تک ایران میں 6000 افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں