ایٹمی پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں، اعلیٰ ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے انتظار کے دوران ایرانی سٹریٹجک کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سیکرٹری جلال دہقانی فیروز آبادی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔

جمعرات کے روز خبر رساں ایجنسی ایسنا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ مذاکراتی حالات گذشتہ مذاکرات سے مختلف ہیں، کیونکہ ملک 12 روزہ جنگ کے تجربے سے گذر چکا ہے جس کی وجہ سے بات چیت اب مزید مشکل ہو گئی ہے۔ ان کا اشارہ گذشتہ موسم گرما میں ایران پر ہونے والی اسرائیلی جنگ کی طرف تھا جس میں امریکہ بھی شریک تھا۔

بے اعتمادی میں اضافہ

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اب آپ کو اس فریق کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں جس نے آپ پر حملہ کیا، اس لیے مذاکرات کا نفسیاتی اور سیاسی ماحول اب زیادہ بوجھل ہو چکا ہے اور امریکہ کے حوالے سے بے اعتمادی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔

علاوہ ازیں علامہ طباطبائی یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر نے کہا کہ سفارت کاری اپنا کردار ادا کرتی ہے اور فوجی طاقت بھی، ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سفارت کاری بھی دفاع کا ایک ذریعہ ہے جو جنگ کو روکنے کی کوشش کرتی ہے، تاہم ان کا خیال تھا کہ جنگ روکنے کے لیے اصل دفاع فوجی طاقت ہی فراہم کرتی ہے۔

فیروز آبادی نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے اس دور میں سب سے اہم عملی فرق یہ ہے کہ مسقط کے پہلے مذاکرات میں امریکیوں کا خیال تھا کہ اگر وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے تو وہ فوجی طاقت کے ذریعے انہیں حاصل کر لیں گے، اسی لیے انہوں نے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا، لیکن آج یہ تجربہ ناکام ثابت ہو چکا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں چوکنا اور تیار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ گذشتہ دھوکہ دہی کا منظرنامہ دوبارہ نہ دہرایا جائے، ان کا اشارہ مذاکرات کے دوران ہی ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکہ کے حملے کی طرف تھا۔

ایرانی کامیابی

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکیوں کا مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہونا ایران کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنطن کا مذاکرات قبول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ ایٹمی پروگرام کا حل صرف سفارتی سطح پر ہی ممکن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریق ابھی تک تفصیلی یا موضوعاتی مذاکرات میں داخل نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے اپنے موقف اور ریڈ لائنز کا اعلان کیا ہے تاکہ بعد میں دونوں دارالحکومتوں میں ان پر غور کیا جا سکے اور یہ طے ہو سکے کہ بات چیت جاری رکھی جا سکتی ہے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے اشارہ کیا کہ صرف بات چیت جاری رکھنے کے امکان پر اتفاق کرنا ہی بذات خود ایک مثبت بات ہے، مگر اس میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ حد سے زیادہ پرامید یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، بین الاقوامی تعلقات اور خارجہ پالیسی میں بدترین منظرناموں کو مدنظر رکھ کر ان کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

دوسری جانب ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے آج انکشاف کیا کہ گذشتہ ہفتے سلطنت عمان میں ہونے والی بات چیت کے دوران دونوں فریقین نے زیادہ لچک دکھائی ہے۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز ایرانی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بار زیادہ عقل مندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ فی الوقت مذاکرات کے آپشن پر قائم ہیں، لیکن انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچا جا سکا تو معاملات خراب ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان رواں ماہ چھ فرور سنہ 2026ء بہ روز جمعہ مسقط میں مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا تھا جسے مثبت قرار دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد سے دونوں ممالک نے متعدد فائلوں بالخصوص یورینیم کی افزودگی اور اس کی شرح، ایران کے اندر موجود افزودہ یورینیم کے ذخیرے اور بیلسٹک میزائلوں کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے بارے میں تہران نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ بحث سے باہر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں