ایرانی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں: بغداد میں امریکی سفارت خانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکہ نے عراقی حکام سے ایک بار پھر ایسی حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے جو ملک کے قومی مفادات پر توجہ مرکوز کرے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ایران کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

بغداد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جمعرات کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عراقی حکومت کو مکمل طور پر آزاد رہنا چاہیے۔ یہ بیانات امریکی ناظم الامور جوشوا ہارس کی بدھ کو نیشنل اپروچ الائنس کے سربراہ عبدالحسین الموسوی سے ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئے۔

عراقی خودمختاری کا تحفظ

امریکی عہدیدار نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا تاکہ امریکی اور عراقی دونوں عوام کے لیے ٹھوس فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے عراقی خودمختاری کے تحفظ، علاقائی استحکام کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرنے پر بھی زور دیا۔

علاوہ ازیں جوشوا ہارس نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک عراق میں ایران کی عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

سابقہ امریکی انتباہات

امریکی ذرائع نے پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ متوقع نئی حکومت میں ایران نواز دھڑوں کے نمائندوں کو شامل نہ کیا جائے۔ واشنگٹن نے سابق وزیراعظم نوری المالکی کی بہ طور وزیراعظم نامزدگی کی بھی مخالفت کی تھی اور اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمب نے بغداد کی امریکی امداد بند کرنے کا اشارہ بھی دیا تھا۔

تاہم تہران کے قریب سمجھے جانے والے شیعہ گروہوں کے اتحاد اور عراقی پارلیمنٹ میں سب سے بڑے بلاک ’کوارڈینیشن فریم ورک‘ نے گذشتہ ماہ نوری المالکی کو اگلی حکومت کی سربراہی کے لیے نامزد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ 75 سالہ نوری المالکی سنہ 2006ء اور سنہ 2014ء کے درمیان دو بار وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ ان کا دورِ حکومت جدید عراق کی تاریخ میں انتہائی اہم رہا جس میں امریکی افواج کا انخلا، فرقہ وارانہ تشدد میں شدت اور وسیع عراقی علاقوں پر داعش کا قبضہ جیسے واقعات پیش آئے۔ ان کے دوسرے دورِ اقتدار میں تہران کے ساتھ تعلقات بڑھنے کی وجہ سے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری آگئی تھی جس کی بنا پر ڈونلڈ ٹرمب انہیں ایک غلط انتخاب قرار دے چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں