شام : امریکہ نے داعش کے خلاف لڑائی کے لیے قائم فوجی اڈے سے مکمل انخلاء کا فیصلہ کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی فوج نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ شام میں موجود اپنے اس فوجی اڈے سے مکمل انخلاء کرنے جا رہی ہے جسے 2014 سے داعش کے خلاف جنگ میں امریکی فوج استعمال کرتی رہی ہے۔

امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فوج نے 11 فروری کو شام سے جزوی انخلاء مکمل کیا۔

یاد رہے کہ یہ علاقہ تین ملکوں کی سرحدوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس پر صدر جوبائیڈن کے دور حکومت میں 2024 میں حملہ ہوا تھا۔
یہ حملہ ایرانی حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے کیا تھا جس کے نتیجے میں 3 امریکی اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

شامی وزارت دفاع نے جمعرات کے روز ہی صبح کے وقت اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے اڈے کا کنٹرول شامی افواج کے حوالے کر دیا ہے اور اب وہاں شامی افواج کی تعیناتی شروع کر دی گئی ہے۔

یہ اعلان پچھلے سال کے اس اعلان کی بنیاد پر سامنے آیا ہے جس میں ٹرمپ انتظامیہ نے کہا تھا کہ وہ شام میں اپنے اڈوں کے بارے میں از سر نو سوچ رہی ہے کیونکہ وہ داعش کو شام میں 2019 میں شکست دے چکی ہے۔

تاہم امریکی فوج نے یہ اطلاع دی تھی کہ وہ داعش کی طرف سے خطرے کے خلاف اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور داعش کو ابھرنے نہیں دے گی۔

نیز اپنے علاقائی اتحادیوں کو داعش کے خلاف مدد دیتی رہے گی۔ یہ بات سینٹ کام کے ترجمان چیف ایڈمرل براڈ کوپر نے ایک بیان میں کہی۔

ترجمان نے کہا داعش کے خلاف کارروائی ہمارے اپنے وطن امریکہ کو محفوظ بنانے اور علاقے کی سلامتی و استحکام کے لیے ہے۔

امریکی فوج نے اس سال بھی داعش کے خلاف درجنوں جگہوں پر کارروائیاں کی ہیں۔ جبکہ داعش کی کارروائیوں میں 2 امریکی فوجی اور 1 ترجمان ماہ دسمبر میں ہلاک ہوگیا تھا۔

پچھلے دو ماہ کے دوران مجموعی طور پر امریکی فوج نے داعش کے 100 ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق ان حملوں میں 50 سے زائد داعشی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں