ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز منعقدہ میونخ سکیورٹی کانفرنس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عباس عراقچی نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس، جو عموماً اپنی سنجیدگی کے لیے جانی جاتی ہے، اب محض ایران کے بارے میں گفتگو پر توجہ مرکوز کرنے کی وجہ سے میونخ سرکس میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ٹرائیکا یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی اب غیر اہم اور بے اثر ہو چکے ہیں۔
مذاکرات کا دور اور ممکنہ جنگ
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران آئندہ منگل کو جنیوا میں جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کر رہے ہیں۔
ادھر خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق دو امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کا حکم دیا تو امریکی فوج ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی مسلسل کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔ یہ ممکنہ تصادم دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں دیکھی گئی کشیدگی سے کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
گذشتہ روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ ایرانی کئی سالوں سے صرف باتیں کر رہے ہیں اور عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے فوجی طاقت کے مظاہرے کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات دشمن کے دل میں خوف پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ایک ماہ کی مہلت
واضح رہے کہ امریکی صدر نے چند روز قبل واضح کیا تھا کہ انہوں نے تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تقریباً ایک ماہ کی مہلت دی ہے، ورنہ بہت برے نتائج برآمد ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے بارے میں فیصلے کے لیے تمام آپشنز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میز پر موجود ہیں۔ امریکی انتظامیہ جوہری معاملے کے ساتھ ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا مسئلہ بھی حل کرنا چاہتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مذاکرات صرف جوہری معاملے تک محدود ہیں اور میزائلوں کا معاملہ ملکی خودمختاری کا مسئلہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔